مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكَمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَنَا رَبُّكُمْ . فَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، فَقَدْ فُتِنَ ، وَمَنْ قَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ ، فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک دجال نکلے گا ، اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، جس پر موٹی سی تہہ ہو گی اور وہ پیدائشی اندھے اور پھلبہری کے مریض کو ٹھیک کر دے گا ، اور مردوں کو زندہ کرے گا ، اور وہ لوگوں سے یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو جو شخص یہ کہے گا ، تو میرا پروردگار ہے وہ آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ، اور جو شخص یہ کہے گا : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، یہاں تک کہ وہ شخص مرتے دم تک اسی چیز پر برقرار رہے گا ، تو اسے دجال کی آزمائش سے بچا لیا جائے گا ، اور اس پر فتنہ لاحق نہیں ہو گا ، دجال زمین میں اتنا عرصہ رہے گا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہو گا ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مغرب کی طرف سے نکلیں گے ، اور وہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، وہ دجال کو قتل کر دیں گے ، اور پھر ( اس کے بعد ) قیامت آ جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔