حدیث نمبر: 12503
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَبَيْنَ إِنْسَانٍ مُنَازَعَةٌ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ . فَلَمَّا سَكَنَ عَنْهُ الْغَضَبُ قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : أُخْبِرُكَ ، فِتْنَةُ الدَّجَّالِ ، وَفِتْنَةُ أَمِيرٍ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَشُحٌّ شَحِيحٌ يُلْقَى عَلَى النَّاسِ ، إِذَا أَصَابَ الرَّجُلُ الْمَالَ لَا يُبَالِي مِمَّا أَصَابَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! اگر یہ شخص جھوٹا ہوا تو تُو اسے اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک یہ تین میں سے کسی ایک چیز کو نہ پا لے ، جب ان کا غصہ کم ہوا تو میں نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ نے اس شخص کے خلاف کیا دعا دی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں دجال کے فتنے کے بارے میں بتاتا ہوں اور ایک ایسے حکمران کے فتنے کے بارے میں بتاتا ہوں جو دجال کے فتنے کی مانند ہو گا ، اور بخیل شخص کے بخل کے بارے میں ( بتاتا ہوں ) جو بخل لوگوں پر ڈال دیا جائے گا ، جب آدمی کوئی مال حاصل کرے گا ، تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے وہ مال کہاں سے حاصل کیا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید اسلمی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6052)»