حدیث نمبر: 12505
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ذُو حَدَقَةٍ جَاحِظَةٍ وَلَا تَخْفَى [كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي جَنْبِ جِدَارٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى ] كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، وَمَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَجَنَّتُهُ عَيْنٌ ذَاتُ دُخَانٍ ، وَنَارُهُ رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلَانِ يُنْذِرَانِ أَهْلَ الْقُرَى ، كُلَّمَا خَرَجَا مِنْ قَرْيَةٍ دَخَلَ أَوَائِلُهُمْ ، فَيُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ فَيَذْبَحُهُ ثُمَّ يَضْرِبُهُ بِعَصَاهُ ثُمَّ يَقُولُ : قُمْ ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ . فَيَقُولُ الرَّجُلُ الْمَذْبُوحُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَيَعُودُ أَيْضًا فَيَذْبَحُهُ ، ثُمَّ يَضْرِبُهُ بِعَصَاهُ فَيَقُولُ لَهُ : قُمْ ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ . فَيَقُولُ الْمَذْبُوحُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا زَادَنِي هَذَا فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً . وَيَعُودُ فَيَذْبَحُهُ الثَّالِثَةَ فَيَضْرِبُهُ [ بِعَصَاهُ ] فَيَقُولُ : قُمْ ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ . فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا زَادَنِي هَذَا فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً . ثُمَّ يَعُودُ فَيَذْبَحُهُ الرَّابِعَةَ ، فَيَضْرِبُ اللَّهُ عَلَى حَلْقِهِ بِصَفِيحَةِ نُحَاسٍ فَلَا يَسْتَطِيعُ ذَبْحَهُ " ، [ فَوَااللَّهِ مَا رَأَيْتُ النُّحَاسَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ : "فَيَغْرِسُ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ وَيَزْرَعُونَ "] قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كُنَّا نَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لِمَا نَعْلَمُ مِنْ قُوَّتِهِ وَجَلَدِهِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَعَطِيَّةُ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر ایک نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، وہ کانا ہو گا ، جس کی ایک آنکھ واضح طور پر ابھری ہوئی ہو گی اور وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی ، اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گی ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کی جنت دھوئیں والا ایک چشمہ ہو گی اور اس کی جہنم ایک سرسبز باغ ہو گی ، اس سے پہلے دو افراد ہر بستی والوں کو ڈراتے رہیں گے ، جب بھی وہ دونوں افراد کسی بستی سے نکلیں گے ، تو دجال کے ماننے والوں میں سے ابتدائی لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے ، اور وہ ایک شخص پر مسلط ہو گا ، وہ اس کے علاوہ کسی اور پر مسلط نہیں ہو گا ، وہ اسے ذبح کرے گا ، پھر اسے عصا کے ذریعے مارے گا ، اور کہے گا : تم اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، تو جس شخص کو ذبح کیا گیا ہو گا ، وہ یہ کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، پھر وہ دوبارہ اسے ذبح کرے گا ، پھر اسے عصا مارے گا ، اور اس سے کہے گا : تم اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، اور ذبح ہونے والا شخص کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، اور ( پھر وہ دجال کو مخاطب کر کے کہے گا ) تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ، پھر دجال تیسری مرتبہ اس کو ذبح کرے گا ، پھر وہ اسے عصا مارے گا ، اور کہے گا اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے دریافت کرے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، تو وہ ( شخص ) کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، اور تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ، پھر وہ چوتھی مرتبہ اسے ذبح کرنا چاہے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس دوسرے شخص کی گردن پر پیتل کا ٹکڑا رکھ دے گا ، تو دجال اسے ذبح نہیں کر سکے گا ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے لفظ ” نحاس “ ( یعنی تانبا ) صرف اسی دن سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے بعد لوگ کھیتی باڑی کریں گے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ وہ شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے کیونکہ ہمیں ان کی قوت اور مضبوطی کا پتہ تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3379) اخرجه ابو يعلى فى المسند (725) اخرجه احمد فى المسند (1526)»