مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ ، وَتَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قُلْتُ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ : " وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ ، وَتَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فتنے ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، جھوٹ ظاہر نہیں ہو جائے گا ، بازار سمٹ جائیں گے ، زمانہ سمٹ جائے گا اور ہرج بکثر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جھوٹ بکثرت ہو جائے گا اور بازار سمٹ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سمعان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔