حدیث نمبر: 12451
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْجَارِ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ الْمُؤْمِنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " كَالنَّخْلَةِ ، وَقَعَتْ فَلَمْ تَفْسَدْ ، وَأُكِلَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ ، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا [ وَكَقِطْعَةِ الذَّهَبِ دَخَلَتِ النَّارَ فَأُخْرِجَتْ فَلَمْ تَزْدَدْ إِلَّا جُودًا ] " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فحاشی اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا عام نہیں ہو جائے گا ، برا ہمسایہ ہو گا ، امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس وقت مومن کا عالم کیا ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہد کی مکھی کی مانند ہو گا کہ اگر وہ ( کھانے کی چیز میں ) گر جائے ، تو اسے خراب نہیں کرتی اور اگر کھا لی جائے تو توڑی نہیں جاتی ہے ۔ وہ پاکیزہ چیز باہر نکالتی ہے ، اور ( مومن کی مثال ) سونے کے ٹکڑے کی مانند ہو گی ، جو آگ میں داخل ہو جائے ، تو جب اسے نکالا جائے ، تو اس کی عمدگی میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3401 و 3410 و 3411 و 3412)»