حدیث نمبر: 12449
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الشُّحُّ وَالْفُحْشُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ ، وَتَظْهَرَ ثِيَابٌ تَلْبَسُهَا نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ ، وَيَعْلُو التُّحُوتُ الْوُعُولَ " ، أَكَذَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ سَمِعْتَهُ مِنْ حِبِّي ؟ قَالَ : نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . قُلْنَا : وَمَا التُّحُوتُ ؟ قَالَ : فُسُولُ الرِّجَالِ وَأَهْلُ الْبُيُوتِ الْغَامِضَةِ يُرْفَعُونَ فَوْقَ صَالِحِهِمْ ، وَالْوُعُولُ أَهْلُ الْبُيُوتِ الصَّالِحَةِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحْدَهُ فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ سُفْيَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ کنجوسی اور فحاشی پھیل جائے گی ، خائن شخص کو امین بنایا جائے گا ، امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، ایسے لباس ظاہر ہوں گے ، جنہیں عورتیں پہنیں گی تو وہ لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی ، لوگ تحوت اور وعول لوگوں پر غالب ہو جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : اے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیا آپ نے میرے محبوب کی زبانی اسی طرح سنا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! جی ہاں ، ہم نے دریافت کیا : تحوت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : گھٹیا لوگ اور تنگ گھروں میں رہنے والے لوگ ، وہ لوگ اپنے نیک لوگوں کے اوپر آ جائیں گے ، اور وعول سے مراد نیک گھرانے کے لوگ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں صرف سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث منقول ہے ، اور وہ بھی کچھ حصہ مذکور ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حارث بن سفیان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (752)»