مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَرَوْنَ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ أَشْيَاءَ تَسْتَنْكِرُونَهَا عِظَامًا ، تَقُولُونَ : هَلْ كُنَّا حَدَّثْنَا بِهَذَا ؟ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ - تَعَالَى - وَاعْلَمُوا أَنَّهَا أَوَائِلُ السَّاعَةِ " ، حَتَّى قَالَ : " سَوْفَ تَرَوْنَ جِبَالًا تَزُولُ قَبْلَ حَقِّ الصَّيْحَةِ " . وَكَانَ يَقُولُ لَنَا : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَدُلَّ الْحَجَرُ عَلَى الْيَهُودِيِّ مُخْتَبِئًا ، كَانَ يَطْرُدُهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ ، فَاطَّلَعَ قُدَّامَهُ فَاخْتَفَى ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا مَا تَبْغِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قائم ہونے سے پہلے تم ایسی چیزیں دیکھو گے ، جنہیں تم بڑا منکر سمجھو گے ، تم کہو گے : کیا ہمیں ان کے بارے میں بتایا گیا تھا ؟ جب تم ان چیزوں کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو اور یہ بات جان لو کہ یہ قیامت ( قریب آنے ) کا آغاز ہے ، یہاں تک کہ آپ نے یہ فرمایا : ” عنقریب تم پہاڑوں کو دیکھو گے کہ وہ صور پھونکے جانے سے پہلے اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ بھی فرمایا کرتے تھے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کوئی پتھر یہودی کے خلاف رہنمائی نہیں کرے گا ، جو یہودی اس کے پیچھے چھپا ہوا ہو گا ، اسے کسی مسلمان نے پیچھے جانے پر مجبور کیا ہو گا ، وہ سامنے سے آئے گا ، وہ یہودی چھپا ہوا ہو گا ، وہ پتھر کہے گا : اے اللہ کے بندے ! یہ ہے وہ شخص جسے تم تلاش کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔