مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ ثَانٍ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ أُمِّ الضِّرَابِ قَالَتْ : تُوُفِّيَ أَبِي وَتَرَكَنِي وَأَخًا لِي ، وَلَمْ يَدَعْ لَنَا مَالًا ، فَقَدِمَ عَمِّي مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَخْرَجَنَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَأَدْخَلَتْنِي مَعَهَا فِي الْخِدْرِ لِأَنِّي كُنْتُ جَارِيَةً ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْغُلَامُ ، فَشَكَا عَمِّي إِلَيْهَا الْحَاجَةَ ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِقَرِيصَتَيْنِ وَغِرَارَتَيْنِ وَمَقْعَدَيْنِ ، ثُمَّ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا ، وَالْمَطَرُ قَيْظًا ، وَتَفِيضَ اللِّئَامُ فَيْضًا ، وَيَغِيضَ الْكِرَامُ غَيْضًا ، وَيَجْتَرِئَ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَاللَّئِيمَ عَلَى الْكَرِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدہ ام ضراب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے پس ماندگان میں مجھے اور میرے بھائی کو چھوڑا ، انہوں نے ہمارے لئے کوئی مال نہیں چھوڑا ، میرے چچا مدینہ منورہ سے آئے اور وہ ہمیں لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے ، انہوں نے مجھے پردے کے پیچھے داخل کر دیا کیونکہ میں لڑکی تھی ، البتہ لڑکے کو اندر نہیں جانے دیا ، میرے چچا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ضرورت مند ہونے کی شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں روٹیوں کے برتن ، دو گندم کے برتن اور دو بچھونے دینے کا حکم دیا ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اولاد نافرمان نہیں ہو گی ، اور بارش ہونا بند نہیں ہو جائے گی اور کمینے لوگ زیادہ نہیں ہو جائیں گے ، اور معززین ختم نہیں ہو جائیں گے ، چھوٹا بڑے کے خلاف جرأت کرے گا ، اور کمینہ معزز شخص کے خلاف جرأت کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔