مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ ثَانٍ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَتَهْلِكُ الْوُعُولُ ، وَتَظْهَرُ التُّحُوتُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْوُعُولُ وَمَا التُّحُوتُ ؟ قَالَ : " الْوُعُولُ وُجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ ، وَالتُّحُوتُ الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لَا يُعْلَمُ بِهِمْ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فحاشی اور بخل ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، اور خائن کو امین بنا دیا جائے گا ، وعول ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور تحوت ظاہر ہو جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وعول سے کیا مراد ہے ، اور تحوت سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وعول سے مراد لوگوں کے بڑے اور معززین ہیں اور تحوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پاؤں کے نیچے ہوتے تھے ( یعنی معاشرتی طور پر کم حیثیت ہوتے تھے ) اور ان کے بارے میں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن والبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔