حدیث نمبر: 12440
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ كَثُرَ لُبْسُ الطَّيَالِسَةِ ، وَكَثُرَتِ التِّجَارَةُ ، وَكَثُرَ الْمَالُ ، وَعَظُمَ رَبُّ الْمَالِ ، وَكَثُرَتِ الْفَاحِشَةُ ، وَكَانَتْ إِمْرَةُ الصِّبْيَانِ ، وَكَثُرَ النِّسَاءُ ، وَجَارَ السُّلْطَانُ ، وَطُفِّفَ فِي الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ ، يُرَبِّي الرَّجُلُ جَرْوَ كَلْبٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَ وَلَدًا ، وَلَا يُوَقَّرُ كَبِيرٌ ، وَلَا يُرْحَمُ صَغِيرٌ ، وَيَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَا حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَغْشَى الْمَرْأَةَ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَيَقُولُ أَمْثَلُهُمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ : لَوِ اعْتَزَلْتُمْ عَنِ الطَّرِيقِ ، يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ ، أَمْثَلُهُمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الْمُدَاهِنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب ( قیامت قائم ہونے ) کا زمانہ قریب آ جائے گا ، تو طیالسی کپڑا بکثرت پہنا جائے گا ، تجارت زیادہ ہو جائے گی ، مال زیادہ ہو جائے گا ، مال والے شخص کو بڑا قرار دیا جائے گا ، فحاشی بکثرت ہو جائے گی ، بچوں کی حکومت ہو گی ، عورتیں زیادہ ہو جائیں گی ، حکمران ظلم کرے گا ، ناپنے اور وزن کرنے میں ناانصافی کی جائے گی ، آدمی کتے کے پلے کو پالنا اس سے زیادہ بہتر سجھے گا کہ وہ بچے کو پالے ، بڑے شخص کی تعظیم نہیں ہو گی ، چھوٹے پر رحم نہیں کیا جائے گا ، زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بکثرت ہو جائے گی ، یہاں تک کہ ایک شخص راستے میں عورت کے ساتھ صحبت کرے گا ، اور اس وقت میں سب سے زیادہ اچھا شخص وہ ہو گا ، جو یہ کہے گا : اگر تم راستے سے ہٹ کے یہ کام کر لیتے تو مناسب تھا ، وہ لوگ بھیڑوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہوں گے ، اور ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہوں گے ، اور اس زمانے میں سب سے زیادہ مثالی شخص وہ ہو گا جو اپنا آپ چھپا کر رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12440
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف