حدیث نمبر: 12436
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ، فَقَالَ : " لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا بَيْنَ يَدَيْهَا ، أَلَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتَنًا وَهَرْجًا " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا الْفِتَنُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا ، أَرَأَيْتَ هَرْجَ مَا هُوَ ؟ قَالَ : " هُوَ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ ، وَأَنْ يُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَعْرِفُ أَحَدٌ أَحَدًا ، وَتَجِفُّ قُلُوبُ النَّاسِ وَتَبْقَى رَجْرَاجَةٌ لَا تَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا تُنْكِرُ مُنْكَرًا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا : میں اس وقت وہاں موجود تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس ( کے متعین وقت ) کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اور اس وقت کے بارے میں صرف وہی جانتا ہے ، البتہ میں اس کی نشانیوں کے بارے میں اور جو کچھ اس سے پہلے ہو گا اس کے بارے میں تمہیں بتا دیتا ہوں ، خبردار ! اس سے پہلے فتنے ہوں گے اور ہرج ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! جہاں تک فتنوں کا تعلق ہے ، تو ان کا تو ہمیں پتہ ہے ، ہرج سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حبشہ کی زبان میں قتل و غارت گری کو کہتے ہیں : ( اور دوسری نشانی یہ ہے ) کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم شناسائی ڈال دی جائے گی ، یہاں تک کہ کوئی ایک شخص کسی دوسرے سے واقف نہیں ہو گا ، اور لوگوں کے دل غصے والے ہو جائیں گے ، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے جو کسی بھلائی کو بھلائی نہیں سمجھیں گے ، اور منکر کو منکر نہیں سمجھیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7228)»