مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ ثَانٍ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَوْفُ إِذَا افْتَرَقَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةٍ ، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَائِرُهُنَّ فِي النَّارِ ؟ " . قُلْتُ : وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا كَثُرَتِ الشُّرَطُ ، وَمُلِّكَتِ الْإِمَاءُ ، وَقَعَدَتِ الْحِمْلَانُ عَلَى الْمَنَابِرِ ، وَاتُّخِذَ الْقُرْآنُ مَزَامِيرَ ، وَزُخْرِفَتِ الْمَسَاجِدُ ، وَرُفِعَتِ الْمَنَابِرُ ، وَاتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا ، وَتُفُقِّهَ فِي الدِّينِ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا ، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ ، فَيَوْمَئِذٍ يَكُونُ ذَلِكَ ، وَيَفْزَعُ النَّاسُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مَدِينَةٍ مِنْهَا يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مُدُنِ الشَّامِ فَتُحَصِّنُهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ " . ¤ قُلْتُ : وَهَلْ تُفْتَحُ الشَّامُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَشِيكًا ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ بَعْدَ فَتْحِهَا ، ثُمَّ تَجِيءُ فِتْنَةٌ غَبْرَاءُ مُظْلِمَةٌ ، ثُمَّ يَتْبَعُ الْفِتَنَ بَعْضُهَا بَعْضًا حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَاتَّبِعْهُ وَكُنْ مِنَ الْمَهْدِيِّينَ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عوف ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور باقی سب جہنم میں جائیں گے ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسا کب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شرطیں زیادہ ہوں گی ، کنیزیں مالک بن جائیں گی ، بے حیثیت لوگ منبر پر بیٹھیں گے ، قرآن کو موسیقی بنا لیا جائے گا ، مساجد کو آراستہ کیا جائے گا ، منبروں کو بلند بنایا جائے گا ، مال غنیمت کو ذاتی دولت قرار دیدیا جائے گا ، زکوۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، امانت کو مال غنیمت سمجھا جائے گا اور دین کا علم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حاصل نہیں کیا جائے گا ، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے گا ، اور ماں کی نافرمانی کرے گا اپنے باپ کو دور کر دے گا ، اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، ہر قبیلے کا سردار اس کا فاسق شخص ہو گا ، لوگوں کا بڑا کمینہ ترین شخص ہو گا ، آدمی کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جائے گی ، اس وقت ایسا ہو گا ، اور لوگ پریشانی کے عالم میں شام کی طرف جائیں گے اور ایک شہر کی طرف جائیں گے جو شام کا ہو گا ، جس کا نام دمشق ہو گا ، وہ شام کا بہترین شہر ہو گا ، وہ لوگوں کو ان کے دشمن سے بچائے گا ، میں نے دریافت کیا : کیا شام فتح ہو جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عنقریب ایسا ہو گا ، پھر اس کے فتح ہونے کے بعد فتنے واقع ہوں گے ، پھر ایک غبار آلود تاریک فتنہ آئے گا ، پھر یکے بعد دیگرے فتنے آئیں گے ، پھر میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا شخص نکلے گا ، جسے مہدی کہا: جائے گا ، اگر تم اس کا زمانہ پاؤ تو تم اس کی پیروی کرنا اور تم مہدی کے ماننے والوں میں سے ہو جانا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن ابراہیم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔