حدیث نمبر: 12434
وَعَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ ، فَإِذَا أَنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَأُرْشِدْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ فِي مَسْجِدِهَا الْأَعْظَمِ . فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي جِئْتُ إِلَيْكَ أَضْرِبُ إِلَيْكَ أَلْتَمِسُ مِنْكَ عِلْمًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ بَعْدَكَ . فَقَالَ لِي : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ . قَالَ : مِمَّنْ ؟ قُلْتُ : مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ بَنِي سَعْدٍ . فَقَالَ : يَا سَعْدِيُّ ، لَأُحَدِّثَنَّ فِيكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى قَوْمٍ كَثِيرَةٍ أَمْوَالُهُمْ كَثِيرَةٍ شَوْكَتُهُمْ تُصِيبُ مِنْهُمْ مَالًا دَثْرًا - أَوْ قَالَ كَثِيرًا - قَالَ : " مَنْ هُمْ ؟ " قَالَ : هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي سَعْدٍ مِنْ أَهْلِ الرِّمَالِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ ، فَإِنَّ بَنِي سَعْدٍ عِنْدَ اللَّهِ ذَوُو حَظٍّ عَظِيمٍ " . سَلْ يَا سَعْدِيُّ . قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مِنْ عَلَمٍ تُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ : وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاسْتَوَى جَالِسًا ، فَقَالَ : يَا سَعْدِيُّ ، سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مَنْ عَلَمٍ تُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ لِلسَّاعَةِ أَعْلَامًا ، وَإِنَّ لِلسَّاعَةِ أَشْرَاطًا ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا ، وَأَنْ يَكُونَ الْمَطَرُ قَيْظًا ، وَأَنْ تَفِيضَ الْأَشْرَارُ فَيْضًا . يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَأَنْ يُخَوَّنَ الْأَمِينُ [ وَأَنْ يُصَدَّقَ الْكَاذِبُ وَأَنْ يُكَذَّبَ الصَّادِقُ ] . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُوَاصَلَ الْأَطْبَاقُ ، وَأَنْ تُقْطَعَ الْأَرْحَامُ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا ، وَكُلَّ سُوقٍ فُجَّارُهَا . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُزَخْرَفَ الْمَحَارِيبُ ، وَأَنْ تَخْرَبَ الْقُلُوبُ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْمُؤْمِنُ فِي الْقَبِيلَةِ أَذَلَّ مِنَ النَّقْدِ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْتَفِيَ الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا مُلْكَ الصِّبْيَانِ وَمُؤَامَرَةَ النِّسَاءِ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَأَعْلَامِهَا أَنْ يُعَمَّرَ خَرَابُ الدُّنْيَا ، وَيُخَرَّبَ عُمْرَانُهَا . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تَظْهَرَ الْمَعَازِفُ وَالْكِبْرُ وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ . ¤ [ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا : الشُّرَطُ وَالْغَمَّازُونَ وَاللَّمَّازُونَ ]. ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَا " . ¤ قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُمْ مُسْلِمُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْقُرْآنُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَنَّى ذَلِكَ ؟ قَالَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُطَلِّقُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ [ ثُمَّ يَجْحَدُ ]طَلَاقَهَا فَيُقِيمُ عَلَى فِرَاشِهَا فَهُمَا زَانِيَانِ مَا أَقَامَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عتی سعدی بیان کرتے ہیں : میں علم کے حصول کے لئے نکلا ، یہاں تک کہ میں کوفہ آیا ، اس وقت اہل کوفہ کے درمیان سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے ، میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا : ان کے بارے میں میری رہنمائی کی گئی ، دو سب سے بڑی مسجد میں موجود تھے ، میں ان کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! میں آپ سے علم کے حصول کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ کے بعد بھی اس علم کے ذریعے نفع دے ، تو انہوں نے فرمایا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ تو میں نے جواب دیا : اہل بصرہ سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : کون سے قبیلے سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : بنو سعد کے قبیلے سے ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : اے سعدی میں تم لوگوں کے بارے میں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ۔ ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کی رہنمائی ایسی قوم کی طرف نہ کروں ، جن کے مال زیادہ ہیں اور جن کی پیداوار زیادہ ہے آپ کو ان سے بہت سا مال حاصل ہو گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ اس شخص نے بتایا : یہ بنو سعد کا قبیلہ یہ رمال ( ریتلے ٹیلوں ) والے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ، بنو سعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی حیثیت رکھتے ہیں ( پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا ) اے سعدی تم پوچھو ، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا قیامت کی کوئی مخصوص نشانی ہے ، جس کے ذریعے اس کی پہچان ہو سکے ، راوی کہتے ہیں : وہ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے ، انہوں نے فرمایا : اے سعدی تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کی کوئی مخصوص نشانی ہے ، جس کے ذریعے اس کی شناخت ہو سکے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! اے ابن مسعود ! قیامت کی کچھ علامتیں ہیں ، اور قیامت کی کچھ نشانیاں ہیں ، خبردار ! قیامت کی علامتوں اور اس کی نشانیوں میں یہ بات ہے کہ بچہ نافرمان ہو گا ، بارش ہونا بند ہو جائے گی ، برے لوگ پھیل جائیں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ خیانت کرنے والے کو امین بنا دیا جائے گا ، اور امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور بچے کی تکذیب کی جائے گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ دور کے لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے گی اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جائے گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانیوں اور اس کی علامات میں یہ بات شامل ہے کہ ہر قبیلے کے منافق لوگ ہر قبیلے کے سردار ہوں گے ، اور فاجر لوگ بازار میں ہوں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ محرابوں کو آراستہ کیا جائے گا ، اور دل برباد ہو جائیں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامتوں اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ قبیلے میں مومن کی حیثیت لکڑی سے زیادہ کمتر ہو گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ مرد مردوں پر اکتفاء کریں گے ، اور عورتیں عورتوں پر اکتفا کریں گی ، اے ابن مسعود قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ بچوں کی حکمرانی ہو گی اور خواتین کی حکومت ہو گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانیوں اور اس کی علامات میں یہ بات شامل ہے کہ دنیا کی خرابی کو آباد کیا جائے گا ، اور اس کی آبادی کو خراب کیا جائے گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانی اور اس کی علامات میں یہ شامل ہے کہ آلات موسیقی تکبر اور شراب پیا جانا ظاہر ہو گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ شرطیں لگائیں جائیں گی ( اشارے کنائے کرنے والے ہوں گے ) ۔ اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بکثرت ہو گی ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا وہ لوگ مسلمان ہوں گے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! قرآن ان لوگوں کے درمیان ہو گا ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! پھر یہ کیسے ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا ، اور پھر اس کو طلاق دینے کا انکار کرے گا ، اور وہ اس عورت کے بستر پر مقیم رہے گا ، اور وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے ، زنا کرنے والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10556)»