مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ ثَانٍ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَلَّ الْجَرَادُ فِي سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ الَّتِي وَلِيَ فِيهَا ، فَسَأَلَ عَنْهَا فَلَمْ يُخْبَرْ بِشَيْءٍ ، فَاغْتَمَّ لِذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ رَاكِبًا فَضَرَبَ إِلَى الْيَمَنِ ، وَآخَرَ إِلَى الشَّامِ ، وَآخَرَ إِلَى الْعِرَاقِ يَسْأَلُ : هَلْ رَأَى مِنَ الْجَرَادِ شَيْئًا أَمْ لَا ؟ قَالَ : فَأَتَاهُ الرَّاكِبُ الَّذِي مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ بِقَبْضَةٍ مِنْ جَرَادٍ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهَا كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْفَ أُمَّةٍ ، سِتَّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعَمِائَةٍ فِي الْبَرِّ ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يُهْلَكُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ الْجَرَادُ ، فَإِذَا هَلَكَتْ تَتَابَعَتْ مِثْلَ النِّظَامِ إِذَا قُطِعَ سِلْكُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ٹڈی دل کم ہو گئے ، انہوں نے ٹڈی دل کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہیں اس بارے میں بتایا نہیں گیا ( یعنی کہیں سے یہ اطلاع نہیں ملی کہ وہاں ٹڈی دل پائے جاتے ہیں ) وہ اس بات سے پریشان ہو گئے ، انہوں نے کسی کو یمن بھیجا ، کسی کو شام کی طرف بھیجا ، کسی کو عراق کی طرف بھیجا اور یہ دریافت کیا : کیا وہاں ٹڈی دل نظر آتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : یمن کی طرف سے سوار ان کے پاس آیا اس کے پاس مٹھی بھر ٹڈی دل تھے ، وہ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آگے رکھ دیے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو تین مرتبہ تکبیر کہی اور پھر یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار قسم کی مخلوق پیدا کی ہے جن میں سے چھ سو قسم کی مخلوق سمندر میں ہے ، اور چار سو قسم کی مخلوق خشکی پر ہے ۔ اس امت میں جو چیز سب سے پہلے ہلاکت کا شکار ہو گی وہ ٹڈی دل ہے ، جب وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تو پھر ( باقی چیزوں کی ہلاکت ) یوں ہو گی ، جس طرح دھاگہ ٹوٹ جائے ، تو دانے بکھر جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔