مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَلَاحِمِ . باب: جنگوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِهِ ، وَحَوْلَهُ سِمَاطَانِ مِنَ النَّاسِ وَلَيْسَ عَلَى فِرَاشِهِ أَحَدٌ ، فَجَلَسْتُ عَلَى فِرَاشِهِ مِمَّا يَلِي رِجْلَيْهِ . فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْمَرُ عَظِيمُ الْبَطْنِ فَجَلَسَ ، فَقَالَ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ . فَقَالَ : وَمَنْ أَبُو بَكْرَةَ ؟ فَقَالَ : وَمَا تَذْكُرُ الرَّجُلَ الَّذِي وَثَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سُورِ الطَّائِفِ ؟ فَقَالَ : بَلَى . ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَخْرُجَ ابْنُ حَمَلِ الضَّأْنِ [ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ]" . قُلْتُ : وَمَا حَمَلُ الضَّأْنِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ أَحَدُ أَبَوَيْهِ شَيْطَانٌ ، يَمْلِكُ الرُّومَ ، يَجِيءُ فِي أَلْفِ أَلْفٍ مِنَ النَّاسِ خَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ فِي الْبَرِّ وَخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ فِي الْبَحْرِ ، يَنْزِلُونَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْعَمِيقُ . فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : إِنَّ لِي فِي سَفِينَتِكُمْ بَقِيَّةً ، فَيَحْرِقُهَا بِالنَّارِ ثُمَّ يَقُولُ : لَا رُومِيَّةَ لَكُمْ وَلَا قُسْطَنْطِينِيَّةَ لَكُمْ ، مَنْ شَاءَ أَنْ يَفِرَّ . وَيَسْتَمِدُّ الْمُسْلِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَمُدَّهُمْ أَهْلُ عَدَنِ أَبْيَنَ ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ : الْحَقُوا بِهِمْ فَكُونُوا سِلَاحًا وَاحِدًا ، فَيَقْتَتِلُونَ شَهْرًا حَتَّى يَخُوضَ فِي سَنَابِكِهَا الدِّمَاءُ ، وَلِلْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَهُ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا كَانَ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الشَّهْرِ قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : الْيَوْمَ أَسُلُّ سَيْفِي وَأَنْصُرُ دِينِي وَأَنْتَقِمُ مِنْ عَدُوِّي . فَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُمُ الدَّائِرَةَ عَلَيْهِمْ ، فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ حَتَّى تُسْتَفْتَحَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : لَا غُلُولَ الْيَوْمَ . فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يُقَسِّمُونَ بِتِرْسِهِمُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ إِذْ نُودِيَ فِيهِمْ : أنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَّفَكُمْ فِي دِيَارِكُمْ ، فَيَدَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِمْ وَيَقْتُلُونَ الدَّجَّالَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے اردگرد لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، فرش پر کوئی نہیں بیٹھا ہوا تھا ، میں فرش پر ان کے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا ، ایک سرخ رنگ کا شخص آیا ، جس کا پیٹ بڑھا ہوا تھا ، وہ بیٹھ گیا ، انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا: میں عبدالرحمن بن ابوبکرہ ہوں ، انہوں نے کہا: ابوبکرہ کون ؟ عبدالرحمن نے کہا: کیا آپ کو وہ صاحب یاد ہیں ، جو طائف کے قلعے کی دیوار سے نیچے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : ہاں پھر انہوں نے ہمیں حدیث بیان کرنا شروع کی اور یہ بات بیان کی : ” عنقریب بکرے کے حمل کا بیٹا نکلے گا ، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ، میں نے عرض کی : بکرے کے حمل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ایک شخص جس کے ماں باپ میں سے ایک شیطان ہو گا ، وہ روم کا حکمران بنے گا ، وہ ایک ہزار ہزار لوگوں کو لے کے آئے گا ، جن میں سے پانچ سو ہزار خشکی کے راستے آئیں گے ، اور پانچ سو ہزار سمندر کے راستے آئیں گے ۔ وہ لوگ ایک ایسی سرزمین پر پڑاؤ کریں گے ، جس کا نام عمیق ہو گا وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہاری کشتی میں میرے کچھ باقی ساتھی ہیں ، پھر وہ ان کو آگ کے ذریعے جلا دے گا ، پھر وہ کہے گا : اب نہ روم تمہارے لے رہے گا ، اور نہ قسطنطنیہ تمہارے لئے رہے گا ، جو شخص چاہے ، وہ فرار ہو جائے ، پھر مسلمان ایک دوسرے سے مدد مانگیں گے ، یہاں تک کہ عدن کے رہنے والے لوگ ان کی مدد کریں گے ، مسلمان ان سے کہیں گے تم ان سے مل جاؤ اور ایک ہتھیار بن جاؤ ، پھر وہ ایک مہینے تک جنگ کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ خون ہی خون ہو جائے گا ، اس وقت ہر مومن کو اپنے سے پہلے لوگوں سے دگنا اجر ملے گا ، البتہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب کو جو ملتا ہے ۔ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جب مہینے کا آخری دن آئے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج میں اپنی تلوار نکالوں گا اور اپنے دین کی مدد کروں گا ، اور اپنے دشمن سے انتقام لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت وارد کر دے گا ، پھر اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کر دے گا ، یہاں تک کہ قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ، تو ان کا امیر یہ کہے گا ، آج کوئی خیانت نہیں ہو گی ، ابھی وہ اپنی ڈھالوں میں سونا اور چاندی بھر کے تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دوران ان کے درمیان یہ اعلان ہو گا کہ تمہارے علاقوں میں تمہارے پیچھے دجال آ چکا ہے ، تو جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہو گا ، وہ اسے چھوڑیں گے ، اور دجال کے ساتھ لڑنے کے لئے چل پڑیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔