کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنگوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12415
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَلَكَ الْعَتِيقَانِ عَتِيقُ الْعَرَبِ وَعَتِيقُ الرُّومِ كَانَتْ عَلَى أَيْدِيهِمَا الْمَلَاحِمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب دو آزاد شدہ لوگ حکمران بن جائیں گے ایک عربوں کا آزاد شدہ شخص ہو گا ، اور ایک رومیوں کا آزاد شدہ شخص ہو گا ، اور پھر ان دونوں کے ہاتھوں جنگیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص محمد بن سفیان ہے ۔ اس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12415
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12416
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَلَاحِمُ عَلَى يَدَيِ الْخَامِسِ مِنْ أَهْلِ هِرَقْلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آل ہرقل میں سے پانچویں فرد کے ہاتھوں جنگیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12416
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12417
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بِمِصْرَ يَلِي سُلْطَانًا ، ثُمَّ يُغْلَبُ عَلَى سُلْطَانِهِ - أَوْ يُنْزَعُ مِنْهُ - فَيَفِرُّ إِلَى الرُّومِ ، فَيَأْتِي بِالرُّومِ إِلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَتِلْكَ أَوَّلُ الْمَلَاحِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو النَّجْمِ صَاحِبُ أَبِي ذَرٍّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب بنوامیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مصر میں حکمران بنے گا ، پھر اس کی حکومت کو مغلوب کر دیا جائے گا یا اس کی حکومت کو الگ کر دیا جائے گا ، پھر وہ فرار ہو کر روم کی طرف چلا جائے گا ، پھر وہ رومیوں کو ساتھ لے کر اہل اسلام کی طرف آئے گا ، تو وہ جنگوں کا آغاز ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابونجم ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12418
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِيَأْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اشْتَعَلَتْ نَارُ الْعَرَبِ بِأَعْرَابِهَا ، فَيَخْرُجُ كَالصَّالِحِ مِمَّنْ مَضَى وَخَيْرُ مَنْ بَقِيَ حَتَّى يَلْتَقُونَ هُمْ وَالرُّومُ فَيَقْتَتِلُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اسلام مکہ اور مدینہ کے درمیان والی جگہ کی طرف یوں لوٹ آئے گا ، جس طرح سانپ اپنی بل کی طرف پلٹ جاتا ہے ، ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ عربوں کی آگ بھڑک اٹھے گی اور پھر پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ہر نیک شخص نکلے گا ، اور باقی رہ جانے والوں میں سے ہر بہتر شخص نکلے گا ، یہاں تک کہ ان کا اور رومیوں کا مقابلہ ہو گا ، اور وہ ایک دوسرے کو قتل کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12418
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12419
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الرُّومِ أَرْبَعُ هُدَنٍ ، الرَّابِعَةُ عَلَى يَدِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هِرَقْلَ تَدُومُ سَبْعَ سِنِينَ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ : الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ خَيْلَانَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ إِمَامُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " مِنْ وَلَدِي ، ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، كَأَنَّ وَجْهَهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، فِي خَدِّهِ الْأَيْمَنِ خَالٌ أَسْوَدُ ، عَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطْوَانِيَّتَانِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، يَمْلِكُ عِشْرِينَ سَنَةً ، يَسْتَخْرِجُ الْكُنُوزَ ، وَيَفْتَحُ مَدَائِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح کے چار معاہدے ہوں گے اور چوتھی مرتبہ آل ہرقل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ یہ معاہدہ ہو گا ، جو سات سال تک رہے گا ۔ اس وقت عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا مستورد بن خیلان ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت لوگوں کا حکمران کون ہو گا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : میری اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو چالیس سال کا ہو گا ، اس کا چہرہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گا ، اس کے رخسار پر سیاہ رنگ کا تل ہو گا ، اس نے دو سفید عبائیں پہنی ہوئی ہوں گی ، یوں جیسے اس کا تعلق بنو اسرائیل سے ہو ، وہ بیس سال تک حکمران رہے گا ، وہ خزانے نکالے گا ، اور مشرکین کے علاقے فتح کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7495)»
حدیث نمبر: 12420
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِهِ ، وَحَوْلَهُ سِمَاطَانِ مِنَ النَّاسِ وَلَيْسَ عَلَى فِرَاشِهِ أَحَدٌ ، فَجَلَسْتُ عَلَى فِرَاشِهِ مِمَّا يَلِي رِجْلَيْهِ . فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْمَرُ عَظِيمُ الْبَطْنِ فَجَلَسَ ، فَقَالَ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ . فَقَالَ : وَمَنْ أَبُو بَكْرَةَ ؟ فَقَالَ : وَمَا تَذْكُرُ الرَّجُلَ الَّذِي وَثَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سُورِ الطَّائِفِ ؟ فَقَالَ : بَلَى . ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَخْرُجَ ابْنُ حَمَلِ الضَّأْنِ [ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ]" . قُلْتُ : وَمَا حَمَلُ الضَّأْنِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ أَحَدُ أَبَوَيْهِ شَيْطَانٌ ، يَمْلِكُ الرُّومَ ، يَجِيءُ فِي أَلْفِ أَلْفٍ مِنَ النَّاسِ خَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ فِي الْبَرِّ وَخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ فِي الْبَحْرِ ، يَنْزِلُونَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْعَمِيقُ . فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : إِنَّ لِي فِي سَفِينَتِكُمْ بَقِيَّةً ، فَيَحْرِقُهَا بِالنَّارِ ثُمَّ يَقُولُ : لَا رُومِيَّةَ لَكُمْ وَلَا قُسْطَنْطِينِيَّةَ لَكُمْ ، مَنْ شَاءَ أَنْ يَفِرَّ . وَيَسْتَمِدُّ الْمُسْلِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَمُدَّهُمْ أَهْلُ عَدَنِ أَبْيَنَ ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ : الْحَقُوا بِهِمْ فَكُونُوا سِلَاحًا وَاحِدًا ، فَيَقْتَتِلُونَ شَهْرًا حَتَّى يَخُوضَ فِي سَنَابِكِهَا الدِّمَاءُ ، وَلِلْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَهُ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا كَانَ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الشَّهْرِ قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : الْيَوْمَ أَسُلُّ سَيْفِي وَأَنْصُرُ دِينِي وَأَنْتَقِمُ مِنْ عَدُوِّي . فَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُمُ الدَّائِرَةَ عَلَيْهِمْ ، فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ حَتَّى تُسْتَفْتَحَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : لَا غُلُولَ الْيَوْمَ . فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يُقَسِّمُونَ بِتِرْسِهِمُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ إِذْ نُودِيَ فِيهِمْ : أنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَّفَكُمْ فِي دِيَارِكُمْ ، فَيَدَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِمْ وَيَقْتُلُونَ الدَّجَّالَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے اردگرد لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، فرش پر کوئی نہیں بیٹھا ہوا تھا ، میں فرش پر ان کے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا ، ایک سرخ رنگ کا شخص آیا ، جس کا پیٹ بڑھا ہوا تھا ، وہ بیٹھ گیا ، انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا: میں عبدالرحمن بن ابوبکرہ ہوں ، انہوں نے کہا: ابوبکرہ کون ؟ عبدالرحمن نے کہا: کیا آپ کو وہ صاحب یاد ہیں ، جو طائف کے قلعے کی دیوار سے نیچے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : ہاں پھر انہوں نے ہمیں حدیث بیان کرنا شروع کی اور یہ بات بیان کی : ” عنقریب بکرے کے حمل کا بیٹا نکلے گا ، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ، میں نے عرض کی : بکرے کے حمل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ایک شخص جس کے ماں باپ میں سے ایک شیطان ہو گا ، وہ روم کا حکمران بنے گا ، وہ ایک ہزار ہزار لوگوں کو لے کے آئے گا ، جن میں سے پانچ سو ہزار خشکی کے راستے آئیں گے ، اور پانچ سو ہزار سمندر کے راستے آئیں گے ۔ وہ لوگ ایک ایسی سرزمین پر پڑاؤ کریں گے ، جس کا نام عمیق ہو گا وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہاری کشتی میں میرے کچھ باقی ساتھی ہیں ، پھر وہ ان کو آگ کے ذریعے جلا دے گا ، پھر وہ کہے گا : اب نہ روم تمہارے لے رہے گا ، اور نہ قسطنطنیہ تمہارے لئے رہے گا ، جو شخص چاہے ، وہ فرار ہو جائے ، پھر مسلمان ایک دوسرے سے مدد مانگیں گے ، یہاں تک کہ عدن کے رہنے والے لوگ ان کی مدد کریں گے ، مسلمان ان سے کہیں گے تم ان سے مل جاؤ اور ایک ہتھیار بن جاؤ ، پھر وہ ایک مہینے تک جنگ کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ خون ہی خون ہو جائے گا ، اس وقت ہر مومن کو اپنے سے پہلے لوگوں سے دگنا اجر ملے گا ، البتہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب کو جو ملتا ہے ۔ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جب مہینے کا آخری دن آئے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج میں اپنی تلوار نکالوں گا اور اپنے دین کی مدد کروں گا ، اور اپنے دشمن سے انتقام لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت وارد کر دے گا ، پھر اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کر دے گا ، یہاں تک کہ قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ، تو ان کا امیر یہ کہے گا ، آج کوئی خیانت نہیں ہو گی ، ابھی وہ اپنی ڈھالوں میں سونا اور چاندی بھر کے تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دوران ان کے درمیان یہ اعلان ہو گا کہ تمہارے علاقوں میں تمہارے پیچھے دجال آ چکا ہے ، تو جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہو گا ، وہ اسے چھوڑیں گے ، اور دجال کے ساتھ لڑنے کے لئے چل پڑیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3378)»