مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَلَاحِمِ . باب: جنگوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الرُّومِ أَرْبَعُ هُدَنٍ ، الرَّابِعَةُ عَلَى يَدِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هِرَقْلَ تَدُومُ سَبْعَ سِنِينَ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ : الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ خَيْلَانَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ إِمَامُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " مِنْ وَلَدِي ، ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، كَأَنَّ وَجْهَهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، فِي خَدِّهِ الْأَيْمَنِ خَالٌ أَسْوَدُ ، عَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطْوَانِيَّتَانِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، يَمْلِكُ عِشْرِينَ سَنَةً ، يَسْتَخْرِجُ الْكُنُوزَ ، وَيَفْتَحُ مَدَائِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح کے چار معاہدے ہوں گے اور چوتھی مرتبہ آل ہرقل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ یہ معاہدہ ہو گا ، جو سات سال تک رہے گا ۔ اس وقت عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا مستورد بن خیلان ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت لوگوں کا حکمران کون ہو گا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : میری اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو چالیس سال کا ہو گا ، اس کا چہرہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گا ، اس کے رخسار پر سیاہ رنگ کا تل ہو گا ، اس نے دو سفید عبائیں پہنی ہوئی ہوں گی ، یوں جیسے اس کا تعلق بنو اسرائیل سے ہو ، وہ بیس سال تک حکمران رہے گا ، وہ خزانے نکالے گا ، اور مشرکین کے علاقے فتح کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔