حدیث نمبر: 12410
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ تَحْصَلُ النَّاسُ كَمَا يُحْصَلُ الذَّهَبُ فِي الْمَعْدِنِ ، فَلَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ، وَلَكِنِ سُبُّوا شِرَارَهُمْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْأَبْدَالَ ، يُوشِكُ أَنْ يُرْسَلَ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ سَيْبٌ فَيُفَرِّقُ جَمَاعَتَهُمْ ، حَتَّى لَوْ قَاتَلَتْهُمُ الثَّعَالِبُ غَلَبَتْهُمْ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ خَارِجٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي ثَلَاثِ رَايَاتٍ ، الْمُكْثِرُ يَقُولُ : خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا ، وَالْمُقِلُّ يَقُولُ : اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ، أَمَارَتُهُمْ أَمُتْ أَمُتْ ، يُلْقُونَ سَبْعَ رَايَاتٍ ، تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ مِنْهَا رَجُلٌ يَطْلُبُ الْمُلْكَ ، فَيَقْتُلُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا وَيَرُدُّ إِلَى الْمُسْلِمِينَ أُلْفَتَهُمْ وَنِعْمَتَهُمْ وَقَاصِيَهُمْ وَدَانِيَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ایسا فتنہ ہو گا ، جو لوگوں کو یوں خراب کرے گا جس طرح معدن میں سے سونے کو نکالا جاتا ہے ، تم اہل شام کو برا نہ کہو ، بلکہ وہاں کے برے لوگوں کو برا کہو ، کیونکہ ان میں ابدال بھی ہیں ، عنقریب اہل شام پر آزمائشوں کو بھیجا جائے گا ، وہ ان کی اجتماعیت کو بکھیر دیں گی ، یہاں تک کہ اگر لومڑیاں بھی ان پر حملہ کریں گی ، تو ان پر غالب آ جائے گی ، اس وقت میرے اہل بیت میں سے ایک شخص نکلے گا ، جس کے تین جھنڈے ہوں گے ، جو شخص یہ سمجھے گا کہ ان کی تعداد زیادہ ہے ۔ وہ کہے گا : یہ پندرہ ہزار ہیں ، جو شخص یہ کہے گا : ان کی تعداد کم ہے ۔ وہ یہ کہے گا : بارہ ہزار ہے ، ان کا مخصوص لفظ یہ ہو گا ” مار دو مار دو “ وہ سات جھنڈوں کا سامنا کریں گے ، جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے نیچے ایک شخص ہو گا ، جو حکمرانی کا طلبگار ہو گا ، وہ ان سب کو مار دے گا ، اور مسلمانوں کی الفت اور نعمت ان کے ہر قریبی اور دور کے فرد تک لوٹا دی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12410
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف