حدیث نمبر: 12409
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ : أَمِنَّا الْمَهْدِيُّ أَمْ مِنْ غَيْرِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنَّا ، بِنَا يَخْتِمُ اللَّهُ كَمَا بِنَا فَتَحَ ، وَبِنَا يَسْتَنْقِذُونَ مِنَ الشِّرْكِ ، وَبِنَا يُؤَلِّفُ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةٍ بَيِّنَةٍ ، كَمَا بِنَا أَلَّفَ بَيْنِ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةِ الشِّرْكِ " . قَالَ عَلِيٌّ : أَمُؤْمِنُونَ أَمْ كَافِرُونَ ؟ قَالَ : " مَفْتُونٌ وَكَافِرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول الله ! مہدی ہم میں سے ہو گا یا ہمارے علاوہ کسی اور خاندان سے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ وہ ہم میں سے ہو گا ، ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کرے گا ، جس طرح ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کو شروع کیا تھا ، اور ہمارے ذریعے لوگوں کو شرک سے بچایا گیا اور ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان واضح دشمنی کے بعد الفت پیدا کر دی ، جس طرح اس نے لوگوں کے دلوں میں شرک کی عداوت کے بعد باہمی الفت پیدا کر دی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وہ مومن ہوں گے یا کافر ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ فتنے کا شکار ہوں گے ، اور کافر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر حضرمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12409
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (157)»