حدیث نمبر: 12393
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ ، يُبْعَثُ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا ، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ ، يُقَسِّمُ الْمَالَ صِحَاحًا " . قَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا صِحَاحًا ؟ قَالَ : " بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غِنَاءً ، وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ ، حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ : مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ ؟ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَيَقُولُ : أَنَا . فَيَقُولُ : إِئِتِ السَّدَّانَ - يَعْنِي الْخَازِنَ - فَقُلْ لَهُ : إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا . فَيَقُولُ لَهُ : احْثُ ، حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَائْتَزَرَهُ نَدِمَ ، فَيَقُولُ : كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ " . قَالَ : " فَيَرُدُّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ ، فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ، ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ " . أَوْ قَالَ : " ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں مہدی کے بارے میں خوشخبری دیتا ہوں ، اسے اختلاف کے وقت بھیجا جائے گا ، جسے لوگوں کے اختلاف اور زلزلوں کے وقت بھیجا جائے گا ، وہ زمین کو انصاف اور عدل سے یوں بھر دے گا ، جس طرح پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، آسمان کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے اس سے راضی ہوں گے اور وہ صحیح طریقے سے مال تقسیم کرے گا ، ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : صحیح طریقے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : لوگوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر کرے گا اور اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا اور اس شخص کا عدل ان لوگوں کے لئے کفایت کرے گا ، یہاں تک کہ وہ منادی کو حکم دے گا ، وہ منادی اعلان کرے گا اور کہے گا : کسی شخص کو مال کی ضرورت ہے ؟ تو لوگوں میں سے صرف ایک شخص کھڑا ہو گا اور وہ کہے گا : مجھے ( ضرورت ) ہے ، تو مہدی کہے گا : تم خازن کے پاس چلے جاؤ اور اس سے کہو : مہدی تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال دو ! وہ شخص اس سے کہے گا ، تو خازن کہے گا : تم دونوں ہاتھوں سے اس کو بھر لو ، وہ ان کو بھرے گا ، پھر وہ ندامت کا شکار ہو کر یہ کہے گا : کیا میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سب سے زیادہ حریص ہوں ، یا جو چیز ان کے لئے پوری آ رہی ہے وہ مجھے کیوں نہیں پوری آ رہی ؟ پھر وہ اس مال کو واپس کرنا چاہے گا ، تو اس سے وہ مال قبول نہیں کیا جائے گا ، اور اس سے یہ کہا: جائے گا : ہم جو چیز دیدیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے ، تو مہدی اس طرح سات سال یا آٹھ سال یا نو سال تک حکمران رہے گا ، پھر اس کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے بعد حیات میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12394
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ ، يَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمانے کے منقطع ہونے کے وقت اور فتنوں کے ظہور کے وقت ایک شخص نکلے گا ، جس کا نام سفاح ہو گا اور وہ مال دونوں ہاتھ میں بھر بھر کے دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12395
وَعَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَقُومَنَّ عَلَى أُمَّتِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَقْنَى أَجْلَى ، يُوسِعُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا وُسِعَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا ، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : فِي حَدِيثِهِ اضْطِرَابٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” میری امت کا حکمران ، میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہو گا ، جس کی ناک اونچی اور رنگ روشن ہو گا ، وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا ، جس طرح پہلے یہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی اور وہ سات سال تک حکومت کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن ابوعمارہ ہے ، عقیلی کہتے ہیں : اس کی حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن ابوعمارہ ہے ، عقیلی کہتے ہیں : اس کی حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12396
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتُمْلَأَنَّ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا ، فَإِذَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا بَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنِّي ، اسْمُهُ اسْمِي ، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمُ أَبِي ، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا ، فَلَا تَمْنَعُ السَّمَاءُ شَيْئًا مِنْ قَطْرِهَا ، وَلَا الْأَرْضُ شَيْئًا مِنْ نَبَاتِهَا ، يَلْبَثُ فِيكُمْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا أَوْ تِسْعًا - يَعْنِي سِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ دَاوُدَ بْنِ الْمُحَبَّرِ بْنِ قَحْذَمٍ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین ضرور ظلم و ستم سے بھر جائے گی ، اور جب یہ ظلم و ستم سے بھر جائے گی ، تو اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک شخص کو بھیجے گا ، جس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا ، اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہو گا ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، اس وقت آسمان اپنی بارش میں سے کوئی چیز نہیں روکے گا ، اور زمین اپنی نباتات میں سے کوئی چیز نہیں روکے گی ، وہ حکمران تمہارے درمیان سات یا آٹھ یا نو سال رہے گا ( یہ شک راوی کو ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، داؤد بن محبر بن قحذم کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، داؤد بن محبر بن قحذم کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 12397
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّةٌ عِدَّةَ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ ، فَيَغْزُوهُمْ جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَيَغْزُوهُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ ، فَيَلْتَقُونَ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ ، فَالْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص کی حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی ، جو اتنی تعداد میں لوگ کریں گے ، جتنی اہل بدر کی تعداد تھی ، پھر اہل عراق کے لشکر اس کے پاس آئیں گے اہل شام کے ابدال اس کے پاس آئیں گے اور اہل شام کا ایک لشکر ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آئے گا ، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو ان لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا ، پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے ساتھ جنگ کرے گا ، جس کی ننہیال بنو کلب سے ہو گی ، ان دونوں لشکروں کا سامنا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ دشمن کو پسپا کر دے گا ، تو وہ شخص خسارے والا ہو گا ، جو بنو کلب کی غنیمت کے حوالے سے خسارے والا ہوا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12398
قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسِيرُ مَلِكُ الْمَشْرِقِ إِلَى مَلِكِ الْمَغْرِبِ فَيَقْتُلُهُ ، فَيَبْعَثُ جَيْشًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَخْسِفُ بِهِمْ ، ثُمَّ يَبْعَثُ جَيْشًا فَيَنْسَى نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَيَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحَرَمِ فَيَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ كَالطَّيْرِ الْوَارِدَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ حَتَّى يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا فِيهِمْ نِسْوَةٌ ، فَيَظْهَرُ عَلَى كُلِّ جَبَّارٍ وَابْنِ جَبَّارٍ ، وَيُظْهِرُ مِنَ الْعَدْلِ مَا يَتَمَنَّى لَهُ الْأَحْيَاءُ أَمْوَاتَهُمْ ، فَيَحْيَا سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ مَا تَحْتَ الْأَرْضِ خَيْرٌ مِمَّا فَوْقَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرق کی حکمرانی ، مغرب کی حکمرانی کی طرف چل کے جائے گی اور اسے قتل کر دے گی ، پھر وہ ایک لشکر مدینہ کی طرف بھیجیں گے ، انہیں دھنسا دیا جائے گا ، پھر اس لشکر کو زندہ کیا جائے گا ، تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص لوگوں کو بھول جائے گا ، اور ایک پناہ لینے والا حرم میں پناہ لے گا ، لوگ اس کی طرف اکٹھے ہو کر یوں جائیں گے ، جس طرح متفرق پرندے آتے ہیں ، یہاں تک کہ تین سو چودہ افراد ، اُن میں خواتین بھی شامل ہوں گی ، وہ اکٹھے ہو کر ان کے پاس آ جائیں گے اور پھر وہ حکمران ، ہر ظالم حکمران اور ظالم کے بیٹے پر غالب آ جائے گا ، وہ عدل کو ظاہر کرے گا ، کہ زندہ لوگ اپنے مردوں کے لیے آرزو کریں ، وہ سات سال زندہ رہے گا ، پھر اس کے بعد ( ایسا وقت آ جائے گا ) کہ زمین کے نیچے والا حصہ ، اُس کے اوپر والے حصے سے زیادہ بہتر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12399
قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ ، فَيَخْرُجُ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ ، فَيَسْتَخْرِجُهُ النَّاسُ مِنْ بَيْتِهِ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ ، وَيَنْشَأُ رَجُلٌ بِالشَّامِ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ ، فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ فَتَكُونُ الدَّائِرَةُ عَلَيْهِمْ ، فَذَلِكَ يَوْمُ كَلْبٍ ، الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ ، فَيَسْتَفْتِحُ الْكُنُوزَ ، وَيُقَسِّمُ الْأَمْوَالَ ، وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ، فَيَعِيشُونَ بِذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ " . أَوْ قَالَ : " تِسْعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف رونما ہو گا ، پھر بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے گا ، وہ مکہ آئے گا ، لوگ اسے اس کے گھر سے نکلنے پر مجبور کریں گے ، وہ حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آئے گا ، پھر شام کا ایک لشکر اس کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آئے گا ، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، پھر عراق کے لشکر اور شام کے ابدال اس کے پاس آئیں گے اور پھر شام میں ایک شخص نمودار ہو گا ، جس کی ننھیال بنو کلب سے ہو گی ، اس کا لشکر ( مہدی سے لڑنے کے لئے ) آئے گا ، اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کر دے گا اور وہ لوگ ہار جائیں گے اور اس دن بنو کلب ہار جائیں گے ، وہ شخص خسارے کا شکار ہو گا جو بنو کلب کی مال غنیمت کے حوالے سے خسارے کا شکار ہو گا ، پھر خزانوں کا منہ کھول دیا جائے گا ، وہ ( یعنی مہدی ) مال تقسیم کرے گا اور زمین میں اسلام کو غلبہ دے گا ، اور وہ لوگ اسی حالت میں سات سال ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نو سال گزار دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12400
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَحْرُومُ مِنْ حُرِمَ غَنِيمَةَ كَلْبٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” محروم وہ شخص ہے جو بنو کلب کی غنیمت سے محروم رہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 12401
وَعَنْهُ قَالَ : حَدَّثَنِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، فَيَضْرِبُهُمْ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَى الْحَقِّ " . قَالَ : قُلْتُ : وَكَمْ يَمْلِكُ ؟ قَالَ : " خَمْسًا وَاثْنَتَيْنِ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا خَمْسًا وَاثْنَتَيْنِ ؟ قَالَ : " لَا أَدْرِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان لوگوں پر نہیں آئے گا ، اور وہ ان پر ضربیں لگائے گا یہاں تک کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ کتنا عرصہ حکومت کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : پچیس ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : پچیسں سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مرجیٰ بن رجاء ہے ، جسے ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مرجیٰ بن رجاء ہے ، جسے ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12402
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِي نَاسٌ مِنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ يُرِيدُونَ رَجُلًا عِنْدَ الْبَيْتِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَيَلْحَقُ بِهِمْ مَنْ تَخَلَّفَ فَيُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَهُمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِمَنْ كَانَ أُخْرِجَ مُسْتَكْرَهًا ؟ قَالَ : " يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے جو بیت اللہ کے قریب ایک شخص کے پاس کے جانا چاہتے ہوں گے ، یہاں تک کہ وہ جب بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، ان کے پیچھے والے لوگ جب ان تک پہنچیں گے ، تو انہیں بھی وہ چیز لاحق ہو گی جو ان لوگوں کو لاحق ہوئی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا کیا بنے گا ، جسے زبردستی لایا گیا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مصیبت دوسروں کو لاحق ہوئی ہے ۔ وہ انہیں بھی لاحق ہو گی اور پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق زندہ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ضعیف کہا: ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں آرام فرما رہے تھے اسی دوران آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ، آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ، آپ نے انا اللہ وانا الیہ راجعون کیوں پڑھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی امت کے ایک لشکر کے حوالے سے یہ پڑھا ہے ، جو شام کی طرف سے آئیں گے وہ بیت اللہ کا قصد رکھتے ہوں گے ، اور ایک شخص کے خلاف آئیں گے ، اور وہ اس تک نہیں پہنچ پائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ ذوالحلیفہ کے بیداء کے مقام پر ہوں گے ، تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، اگرچہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اُن سب کو کیوں دھنسا دیا جائے گا ، جب کہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ضعیف کہا: ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں آرام فرما رہے تھے اسی دوران آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ، آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ، آپ نے انا اللہ وانا الیہ راجعون کیوں پڑھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی امت کے ایک لشکر کے حوالے سے یہ پڑھا ہے ، جو شام کی طرف سے آئیں گے وہ بیت اللہ کا قصد رکھتے ہوں گے ، اور ایک شخص کے خلاف آئیں گے ، اور وہ اس تک نہیں پہنچ پائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ ذوالحلیفہ کے بیداء کے مقام پر ہوں گے ، تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، اگرچہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اُن سب کو کیوں دھنسا دیا جائے گا ، جب کہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12402
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي إِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا شَأْنُكَ تَسْتَرْجِعُ ؟ قَالَ : " لِجَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ ، لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُمْ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِيِ الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ قَالَ : " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ بیان کرتی ہیں کہ : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک کر (سیدھے ) بیٹھ گئے اور “” إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ “” پڑھنے لگے ۔ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! کیا بات ہے ، آپ استرجاع (إِنَّا لِلَّهِ ۔ ۔ ۔ ) کیوں پڑھ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” میری امت کے ایک لشکر کی وجہ سے جو شام کی طرف سے آئے گا اور بیت اللہ کا قصد کرے گا ، ایک ایسے شخص (کو پکڑنے ) کے لیے جو ان کی مخالفت اور دفاع کر رہا ہوگا ، یہاں تک کہ جب وہ ذو الحلیفہ کے قریب بیداء (مقام) پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، جبکہ ان کی نیتیں اور احوال مختلف ہوں گے “ ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، ان سب کو ایک ساتھ کیسے دھنسا دیا جائے گا جبکہ ان کی نیتیں اور مقاصد مختلف ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” (ہاں ! لیکن ) ان میں سے کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں مجبور کر کے لایا گیا ہوگا ، ان میں سے کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں مجبور کر کے لایا گیا ہوگا ، ان میں سے کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں مجبور کر کے لایا گیا ہوگا (لہٰذا قیامت کے دن سب کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا) “ ۔
اسے امام ابویعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ہے جو حسن الحديث ہے لیکن اس میں کچھ ضعف بھی موجود ہے ۔
اسے امام ابویعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ہے جو حسن الحديث ہے لیکن اس میں کچھ ضعف بھی موجود ہے ۔
حدیث نمبر: 12403
عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند روایت نقل کی گئی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12404
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَانْتَبَهَ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّ تَسْتَرْجِعُ ؟ قَالَ : " مِنْ قِبَلِ جَيْشٍ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ ، فَإِذَا عَلَوُا الْبَيْدَاءَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَلَا يُدْرِكُ أَعْلَاهُمْ أَسْفَلَهُمْ وَلَا يُدْرِكُ أَسْفَلُهُمْ أَعْلَاهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُخْسَفُ بِهِمْ مصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ قَالَ : " إِنَّ فِيهِمْ أَوْ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ الْحَكَمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ ذَكَرَهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت نقل کی گئی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں سوئے ہوئے تھے ، آپ بیدار ہوئے تو آپ نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنا شروع کر دیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ پڑھ رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک لشکر کی وجہ سے جو عراق کی طرف سے مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی تلاش میں آئے گا اور انہیں اس شخص تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا ، جب وہ ذوالحلیفہ میں بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، ان کے اوپر والے ، نیچے والوں تک نہیں پہنچ سکیں گے اور نیچے والے اوپر والوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ ایسا قیامت کے دن تک ہو گا حالانکہ ان کی آمد کا مقصد مختلف ہو گا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سب کو دھنسا دیا جائے گا ۔ جب کہ ان سب کی آمد کا مقصد مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن حکم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، البتہ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے نہ اس پر جرح کی ہے اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن حکم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، البتہ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے نہ اس پر جرح کی ہے اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12405
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِيءُ رَايَاتٌ سُودٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، وَتَخُوضُ الْخَيْلُ فِي الدِّمَاءِ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرق کی طرف سے سیاہ جھنڈے آئیں گے اور گھوڑے سینوں تک خون میں ڈوب جائیں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12406
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَهْدِيَّ فَقَالَ : " إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَثَمَانٍ وَإِلَّا فَتِسْعٌ ، وَلَيَمْلَأَنَّ الْأَرْضَ عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ بَعْضُ ضَعْفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اگر اس کی مدت کم ہوئی تو وہ سات سال ہو گی ، ورنہ آٹھ سال ہو گی ، ورنہ نو سال ہو گی اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے ضرور بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12407
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ فِي النَّاسِ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا " . ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَعُودَنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں ایک خلیفہ ہو گا ، جو لوگوں کو مال ، ہاتھ بھر بھر کے دے گا ، وہ اس کا شمار نہیں کرے گا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ وہ لوگ دوبارہ ایسا کریں گے ( یعنی اور مانگیں گے یا لیں گے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12408
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَتَكُونُ فِتْنَةٌ لَا يَهْدَأُ مِنْهَا جَانِبٌ إِلَّا جَاشَ مِنْهَا جَانِبٌ ، حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَمِيرُكُمْ فُلَانٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُثَنَّى ابْنُ الصَّبَّاحِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسا فتنہ ہو گا ، جب اس کی ایک طرف پرسکون ہو گی تو دوسری طرف سے جوش آ جائے گا ، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی یہ اعلان کرے گا کہ تمہارا امیر فلاں شخص ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور انہوں نے اسے ضعیف بھی کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور انہوں نے اسے ضعیف بھی کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 12409
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ : أَمِنَّا الْمَهْدِيُّ أَمْ مِنْ غَيْرِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنَّا ، بِنَا يَخْتِمُ اللَّهُ كَمَا بِنَا فَتَحَ ، وَبِنَا يَسْتَنْقِذُونَ مِنَ الشِّرْكِ ، وَبِنَا يُؤَلِّفُ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةٍ بَيِّنَةٍ ، كَمَا بِنَا أَلَّفَ بَيْنِ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةِ الشِّرْكِ " . قَالَ عَلِيٌّ : أَمُؤْمِنُونَ أَمْ كَافِرُونَ ؟ قَالَ : " مَفْتُونٌ وَكَافِرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول الله ! مہدی ہم میں سے ہو گا یا ہمارے علاوہ کسی اور خاندان سے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ وہ ہم میں سے ہو گا ، ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کرے گا ، جس طرح ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کو شروع کیا تھا ، اور ہمارے ذریعے لوگوں کو شرک سے بچایا گیا اور ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان واضح دشمنی کے بعد الفت پیدا کر دی ، جس طرح اس نے لوگوں کے دلوں میں شرک کی عداوت کے بعد باہمی الفت پیدا کر دی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وہ مومن ہوں گے یا کافر ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ فتنے کا شکار ہوں گے ، اور کافر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر حضرمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر حضرمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 12410
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ تَحْصَلُ النَّاسُ كَمَا يُحْصَلُ الذَّهَبُ فِي الْمَعْدِنِ ، فَلَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ، وَلَكِنِ سُبُّوا شِرَارَهُمْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْأَبْدَالَ ، يُوشِكُ أَنْ يُرْسَلَ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ سَيْبٌ فَيُفَرِّقُ جَمَاعَتَهُمْ ، حَتَّى لَوْ قَاتَلَتْهُمُ الثَّعَالِبُ غَلَبَتْهُمْ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ خَارِجٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي ثَلَاثِ رَايَاتٍ ، الْمُكْثِرُ يَقُولُ : خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا ، وَالْمُقِلُّ يَقُولُ : اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ، أَمَارَتُهُمْ أَمُتْ أَمُتْ ، يُلْقُونَ سَبْعَ رَايَاتٍ ، تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ مِنْهَا رَجُلٌ يَطْلُبُ الْمُلْكَ ، فَيَقْتُلُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا وَيَرُدُّ إِلَى الْمُسْلِمِينَ أُلْفَتَهُمْ وَنِعْمَتَهُمْ وَقَاصِيَهُمْ وَدَانِيَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ایسا فتنہ ہو گا ، جو لوگوں کو یوں خراب کرے گا جس طرح معدن میں سے سونے کو نکالا جاتا ہے ، تم اہل شام کو برا نہ کہو ، بلکہ وہاں کے برے لوگوں کو برا کہو ، کیونکہ ان میں ابدال بھی ہیں ، عنقریب اہل شام پر آزمائشوں کو بھیجا جائے گا ، وہ ان کی اجتماعیت کو بکھیر دیں گی ، یہاں تک کہ اگر لومڑیاں بھی ان پر حملہ کریں گی ، تو ان پر غالب آ جائے گی ، اس وقت میرے اہل بیت میں سے ایک شخص نکلے گا ، جس کے تین جھنڈے ہوں گے ، جو شخص یہ سمجھے گا کہ ان کی تعداد زیادہ ہے ۔ وہ کہے گا : یہ پندرہ ہزار ہیں ، جو شخص یہ کہے گا : ان کی تعداد کم ہے ۔ وہ یہ کہے گا : بارہ ہزار ہے ، ان کا مخصوص لفظ یہ ہو گا ” مار دو مار دو “ وہ سات جھنڈوں کا سامنا کریں گے ، جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے نیچے ایک شخص ہو گا ، جو حکمرانی کا طلبگار ہو گا ، وہ ان سب کو مار دے گا ، اور مسلمانوں کی الفت اور نعمت ان کے ہر قریبی اور دور کے فرد تک لوٹا دی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12411
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ ، إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَثَمَانٍ وَإِلَّا فَتِسْعٌ ، تَنْعَمُ أُمَّتِي فِيهَا نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا ، يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا ، وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ شَيْئًا مِنَ النَّبَاتِ ، وَالْمَالُ كُدُوسٌ ، يَقُومُ الرَّجُلُ يَقُولُ : يَا مَهْدِيُّ ، أَعْطِنِي ، فَيَقُولُ : خُذْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت میں مہدی ہو گا ، اگر اس کی مدت کم ہوئی تو سات سال ہو گی ، یا آٹھ سال ہو گی ، یا نو سال ہو گی ، اس عرصے کے دوران میری امت کو نعمتیں ملیں گی ، کہ اس طرح کی نعمتیں انہیں پہلے کبھی نہیں ملی ہوں گی ، آسمان سے موسلا دھار بارش نازل ہو گی ، زمین کے نباتات میں سے چھپی نہیں رہے گی ، مال زیادہ ہو جائے گا ، ایک شخص کھڑا ہو کر یہ کہے گا : اے مہدی مجھے کچھ دو ، تو وہ کہے گا لے لو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12412
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُولُ بِسُنَّتِي ، يُنْزِلُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ ، وَيُنْبِتُ اللَّهُ لَهُ الْأَرْضَ مِنْ بَرَكَتِهَا ، تُمْلَأُ الْأَرْضُ مِنْهُ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا ، يَعْمَلُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَبْعَ سِنِينَ وَيَنْزِلُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ایک شخص نکلے گا ، جو میری سنت کے مطابق بات کہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے آسمان سے بارش نازل کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے زمین سے اس کے لئے برکتیں اگائے گا ، اور زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیا جائے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی ، وہ سات سال تک اس امت کی حکومت کرے گا ، اور وہ بیت المقدس میں رہے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اور امام بن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اور امام بن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12413
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَنْ يَسَارِهِ وَالْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ ، إِذْ تَلَاحَى الْعَبَّاسُ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَغْلَظَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْعَبَّاسِ . فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِ الْعَبَّاسِ وَيَدِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " سَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِ هَذَا فَتًى يَمْلَأُ الْأَرْضَ جَوْرًا وَظُلْمًا ، وَسَيَخْرُجُ مِنْ هَذَا فَتًى يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمْ بِالْفَتَى التَّمِيمِيِّ فَإِنَّهُ يُقْبِلُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهُوَ صَاحِبُ رَايَةِ الْمَهْدِيِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ مُنْكَرٌ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يَسْتَقْبِلُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ ، وَخَاصَّةً عَمَّهُ الْعَبَّاسَ الَّذِي قَالَ فِيهِ : إِنَّهُ صِنْوُ أَبِيهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تشریف فرما تھے ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف تھے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف تھے ، اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے درمیان تکرار ہو گئی ، انصاری نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا : ان کی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو ظلم و ستم سے بھر دے گا ، اور پھر ان کی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ، جب تم یہ صورت حال دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ تمیم قبیلے کے نوجوان کے ساتھ رہو کیونکہ وہ مشرق کی طرف سے آئے گا ، اور وہ مہدی کا علمبردار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، تاہم
یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی شخص کے ساتھ اس طرح سامنا نہیں کرتے تھے کہ آپ کے چہرے سے ناگواری کا اظہار ہو رہا ہو ، اور بطور خاص اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تو خاص کر خیال رکھتے تھے ، جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ وہ میرے والد کی جگہ ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، تاہم
یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی شخص کے ساتھ اس طرح سامنا نہیں کرتے تھے کہ آپ کے چہرے سے ناگواری کا اظہار ہو رہا ہو ، اور بطور خاص اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تو خاص کر خیال رکھتے تھے ، جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ وہ میرے والد کی جگہ ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12414
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ سُلْطَانَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . قُلْتُ : وَحَدِيثُ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ فِي الْمَهْدِيِّ يَأْتِي فِي فَضَائِلِ أَهْلِ الْبَيْتِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرق کی طرف سے ایک قوم نکلے گی وہ مہدی کے لئے اس کی حکومت کو بچھا دے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں علی ہلالی کی نقل کردہ حدیث جو مہدی کے بارے میں ہے ۔ وہ اہل بیت کے فضائل سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں علی ہلالی کی نقل کردہ حدیث جو مہدی کے بارے میں ہے ۔ وہ اہل بیت کے فضائل سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔