مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَهْدِيِّ . باب: مہدی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسِيرُ مَلِكُ الْمَشْرِقِ إِلَى مَلِكِ الْمَغْرِبِ فَيَقْتُلُهُ ، فَيَبْعَثُ جَيْشًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَخْسِفُ بِهِمْ ، ثُمَّ يَبْعَثُ جَيْشًا فَيَنْسَى نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَيَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحَرَمِ فَيَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ كَالطَّيْرِ الْوَارِدَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ حَتَّى يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا فِيهِمْ نِسْوَةٌ ، فَيَظْهَرُ عَلَى كُلِّ جَبَّارٍ وَابْنِ جَبَّارٍ ، وَيُظْهِرُ مِنَ الْعَدْلِ مَا يَتَمَنَّى لَهُ الْأَحْيَاءُ أَمْوَاتَهُمْ ، فَيَحْيَا سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ مَا تَحْتَ الْأَرْضِ خَيْرٌ مِمَّا فَوْقَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرق کی حکمرانی ، مغرب کی حکمرانی کی طرف چل کے جائے گی اور اسے قتل کر دے گی ، پھر وہ ایک لشکر مدینہ کی طرف بھیجیں گے ، انہیں دھنسا دیا جائے گا ، پھر اس لشکر کو زندہ کیا جائے گا ، تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص لوگوں کو بھول جائے گا ، اور ایک پناہ لینے والا حرم میں پناہ لے گا ، لوگ اس کی طرف اکٹھے ہو کر یوں جائیں گے ، جس طرح متفرق پرندے آتے ہیں ، یہاں تک کہ تین سو چودہ افراد ، اُن میں خواتین بھی شامل ہوں گی ، وہ اکٹھے ہو کر ان کے پاس آ جائیں گے اور پھر وہ حکمران ، ہر ظالم حکمران اور ظالم کے بیٹے پر غالب آ جائے گا ، وہ عدل کو ظاہر کرے گا ، کہ زندہ لوگ اپنے مردوں کے لیے آرزو کریں ، وہ سات سال زندہ رہے گا ، پھر اس کے بعد ( ایسا وقت آ جائے گا ) کہ زمین کے نیچے والا حصہ ، اُس کے اوپر والے حصے سے زیادہ بہتر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔