مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَهْدِيِّ . باب: مہدی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّةٌ عِدَّةَ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ ، فَيَغْزُوهُمْ جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَيَغْزُوهُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ ، فَيَلْتَقُونَ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ ، فَالْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص کی حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی ، جو اتنی تعداد میں لوگ کریں گے ، جتنی اہل بدر کی تعداد تھی ، پھر اہل عراق کے لشکر اس کے پاس آئیں گے اہل شام کے ابدال اس کے پاس آئیں گے اور اہل شام کا ایک لشکر ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آئے گا ، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو ان لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا ، پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے ساتھ جنگ کرے گا ، جس کی ننہیال بنو کلب سے ہو گی ، ان دونوں لشکروں کا سامنا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ دشمن کو پسپا کر دے گا ، تو وہ شخص خسارے والا ہو گا ، جو بنو کلب کی غنیمت کے حوالے سے خسارے والا ہوا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔