مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، وَإِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُمْسِي الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، وَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ أَوَّلِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے ، قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہوں گے ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، آدمی ان میں شام کے وقت مومن ہو گا ، تو صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں ، اپنا دین فروخت کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں ابتدائی حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔