حدیث نمبر: 12368
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ ، قَالَ : " عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي وَلَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكَ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا ، إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ " . قَالَ : " وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يَعْرِفُ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے ، اس کے صحیح وقت کا وہی علم رکھتا ہے ، البتہ میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں اور جو کچھ اس سے پہلے ہو گا ، اُس کے بارے میں بتا دیتا ہوں ، اس سے پہلے فتنہ اور ہرج ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : فتنے کا تو ہمیں پتہ ہے ، ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حبشہ کی زبان میں اس سے مراد قتل و غارت گری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم شناسائی یوں ڈال دی جائے گی کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو پہچانتا نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (389/5)»