مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
حدیث نمبر: 12370
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَفْتِنَنَّ أُمَّتِي بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت ، میرے بعد ضرور فتنوں میں مبتلا ہو گی ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، کوئی شخص صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کافر ہو چکا ہو گا ، اُن ( فتنوں ) کے دوران لوگ معمولی سے دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں اپنا دین فروخت کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔