حدیث نمبر: 12365
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا [ يَسِيرٍ ]" [أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا ] ¤ قَالَ الْحَسَنُ : وَ [ اللَّهِ ] لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ ، فِرَاشَ نَارٍ وَذِئَابَ طَمَعٍ يَغْدُو بِدِرْهَمَيْنِ وَيَرُوحُ بِدِرْهَمَيْنِ ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نعمان بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا ، تو پھر صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ دنیاوی معمولی ساز و سامان کے عوض میں اپنا آخرت کا حصہ بیچ دیں گے “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ حسن بصری کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہم نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ ان کی شکلیں تھیں ، لیکن عقلیں نہیں تھیں ، جسم تھے ، لیکن سمجھ بوجھ نہیں تھی ، وہ جہنم کے پتنگے تھے اور لالچ کے بھیڑیے تھے ، صبح دو درہم لے کے جاتے تھے اور شام کو دو درہم لے کے آتے تھے ، ان میں سے کوئی ایک شخص اپنا دین ، بکری کی قیمت کے عوض میں فروخت کر دیتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12365
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (372/4)»