حدیث نمبر: 12364
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : سَلَامٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " ، وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ ، وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لَأَنْفُسِنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ فِيهَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے ، قیس بن ہیثم کو یزید بن معاویہ کے انتقال پر خط لکھا : ” تمہیں سلام ہو ! امابعد ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھوئیں کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی کا دل یوں مر جائے گا ، جس طرح آدمی کا جسم مر جاتا ہے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ اپنا حصہ اور اپنا دین ، دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں فروخت کر دیں گے ۔ “ یزید بن معاویہ مر چکا ہے ، اور تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے ساتھی ہو ، تو تم ( اگلے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں ) ہم سے سبقت نہ لے جانا ، یہاں تک کہ ہم اپنے لئے ( نیا خلیفہ ) اختیار کر لیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12364
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8135) أخرجه احمد فى المسند (453/3)»