حدیث نمبر: 12366
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ عَمَّارٌ قَالَ : أَدْرَبْنَا عَامًا ، ثُمَّ قَفَلْنَا وَفِينَا شَيْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ ، فَذُكِرَ الْحَجَّاجُ فَسَبَّهُ وَشَتَمَهُ . فَقُلْتُ لَهُ : لِمَ تَشْتُمُهُ وَهُوَ يُقَاتِلُ أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي طَاعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ هُوَ الَّذِي أَكْفَرَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ ، فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ ، وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الصَّيْلَمُ ، وَهِيَ فِيكُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ حَجَرًا فَكُنْهُ ، وَلَا تَكُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ ، أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ " . ¤
محمد محی الدین

اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام عمار ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم کہیں گئے ، پھر ہم واپس آئے تو ہمارے درمیان خثم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک بوڑھا تھا ، اس نے حجاج کا ذکر کرتے ہوئے اس پر تنقید کی ، اسے برا بھلا کہا: ، میں نے اس سے کہا: تم اسے کیوں برا بھلا کہہ رہے ہو ؟ جبکہ وہ امیرالمؤمنین کی اطاعت کرتے ہوئے اہل عراق کے ساتھ جنگ کر رہا ہے ؟ تو اس نے کہا: یہی وہ شخص ہے ، جس نے انہیں کافر بنایا ہے ، پھر اس نے یہ بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت میں پانچ فتنے ہوں گے ۔ “ ( شاید آگے والے کلمات صحابی کے ہیں : ان میں سے ) چار رخصت ہو چکے ہیں اور ایک باقی رہ گیا ہے اور وہ ” صیلم “ ہو گا اور اے اہل شام ! وہ تمہارے درمیان ہو گا ، اگر تم نے اس کا زمانہ پایا ، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم پتھر بن جانا اور تم دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے ساتھ نہ ہونا ، خبردار ! تم زمین میں سے خرچ حاصل کر لینا ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (73/5)»