مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - حِينَ أَلْقَى الشَّامَ بَوَانِيَةً بَثْنِيَةً وَعَسَلًا - وَشَكَّ عَفَّانُ مَرَّةً فَقَالَ : حِينَ أَلْقَى الشَّامَ كَذَا وَكَذَا - فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ ، وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ . قَالَ : وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ . ¤ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ ، فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ . قَالَ : فَقَالَ : وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ ! إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ - وَذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا - فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيُفَكِّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ [ بِهِ ]مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ بِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ ، وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامَ الْهَرْجِ ، فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : امیرالمؤمنین یعنی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب شام میں ، میں نے بہت سی نعمتیں پائیں اور عمدہ قسم کی گندم اور شہد پایا ، ایک مرتبہ عفان نامی راوی نے اس میں شک کیا ہے کہ جب میں نے شام میں یہ یہ چیزیں پائیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہند کی طرف روانہ ہو جاؤں ، ہم اس وقت ہند اس کو سمجھتے تھے ، جو آج کل بصرہ ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: اے ابوسلیمان ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ فتنے ظاہر ہو چکے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : کیا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں ؟ فتنے تو ان کے بعد ہوں گے ، اور لوگ ذی بلیان کے مقام پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : ذی بلیان ایک مقام ہے جو فلاں فلاں جگہ پر ہے ، وہاں کوئی شخص غور و فکر کرے گا کہ کیا اسے کوئی ایسی جگہ ملتی ہے کہ جہاں وہ پڑاؤ کر سکے ؟ اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس نے جس فتنے اور خرابی کا سامنا کیا ہو گا ، وہ اس سے بچنا چاہ رہا ہو گا ، تو اسے کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی ، یہ وہ ایام ہوں گے ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ قیامت سے پہلے وہ آئیں گے اور ان میں قتل و غارت گری ہو گی ، تو ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ وہ زمانہ ہمیں یا تمہیں نصیب ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔