مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
حدیث نمبر: 12360
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أَرْبَعُ فِتَنٍ : فِتْنَةٌ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الدَّمُ ، وَالثَّانِيَةُ يَسْتَحِلُّ فِيهَا الدَّمُ وَالْمَالُ ، وَالثَّالِثَةُ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الدَّمُ وَالْمَالُ وَالْفَرْجُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَ ثَلَاثٍ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میرے بعد چار فتنے ہوں گے ، ایک فتنے میں خون بہانا حلال قرار دیا جائے گا ، دوسرے میں خون بہانا اور مال حلال قرار دیا جائے گا ، تیسرے میں خون بہانا ، مال اور شرمگاہ کو حلال قرار دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے تین کا ذکر نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حفص بن غیلان ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو کمزور ہے ۔