مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
حدیث نمبر: 12358
وَبِسَنَدِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَتْكُمُ الْقُرَيْعَاءُ " . قُلْنَا : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فِتْنَةٌ يَكُونُ فِيهَا مِثْلُ الْبَيْضَةِ " . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ . ¤محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے پاس قریعاء آئے گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتنہ ہے ، جس میں خود کی مانند ہو گا ( یعنی قتل و غارت گری ہو گی ) ۔ “ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن سفیان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو کمزور ہے ۔