مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
حدیث نمبر: 12357
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يُفَارِقُ الرَّجُلُ فِيهَا أَخَاهُ وَأَبَاهُ ، تَطِيرُ الْفِتْنَةُ فِي قُلُوبِ رِجَالٍ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُعَيَّرُ الرَّجُلُ بِهَا كَمَا تُعَيَّرُ الزَّانِيَةُ بِزِنَاهَا " . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ، جن میں آدمی اپنے بھائی اور اپنے باپ سے جدا ہو جائے گا ، اور فتنہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں قیامت تک برقرار رہے گا ، یہاں تک کہ اس فتنے کے حوالے سے کسی شخص کو یوں عار دلائی جائے گی ، جس طرح زنا کرنے والی عورت کو ، اُس کے زنا کرنے کے حوالے سے عار دلائی جاتی ہے ۔ “