مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 12340
وَعَنْ أَبِي الْغَادِيَةِ الْمُزَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ ، خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا مُسْلِمُو أَهْلِ الْبَوَادِي الَّذِينَ لَا يَتَنَدَّوْنَ مِنْ دِمَاءِ النَّاسِ وَلَا أَمْوَالِهِمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ حَجَرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوغادیہ مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب بڑے اور مضبوط فتنے ہوں گے ، ان کے دوران لوگوں میں سب سے بہتر ، ویرانوں میں رہنے والے مسلمان ہوں گے ، جو لوگوں کا خون نہیں بہائیں گے اور ان کے اموال کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیان بن حجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔