حدیث نمبر: 12325
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، فَمَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ فَلْيَمْشِ بِسَيْفِهِ إِلَى صَفَاةٍ فَلْيَضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعَ لَهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ الْمُحَارِبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد ایسا فتنہ آئے گا ، جس میں سویا ہوا شخص ، بیدار شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں بیٹھا ہوا شخص ، چلنے والے سے بہتر ہو گا ، تم میں سے جس شخص کو وہ صورت حال درپیش ہو ، وہ اپنی تلوار لے کر کسی چٹان کے پاس جائے اور وہ تلوار اس چٹان پر مار کر اس تلوار کو توڑ دے اور پھر وہ لیٹ جائے ، یہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہو جائے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر محاربی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر محاربی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12326
وَعَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ : بَعَثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَمَعِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمْتُ فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرُونَ بِهِ النَّاسَ ؟ فَقَالَ : أَوْصَانِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ أَنْ أَعْمِدَ إِلَى أُحُدٍ وَأَكْسِرَ سَيْفِي وَأَقْعُدَ فِي بَيْتِي ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي قَالَ : " اقْعُدْ فِي مَخْدَعِكَ ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ فَاجْثُ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَتَقُولُ : بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ ، فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ " . فَقَدْ كَسَرْتُ سَيْفِي ، فَإِذَا دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي دَخَلْتُ مَخْدَعِي ، فَإِذَا دَخَلَ عَلَيَّ مَخْدَعِي جَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتَيَّ فَقُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقُولَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں : یزید بن معاویہ نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، میں آیا ، میں نے دریافت کیا : آپ اس کے بارے میں لوگوں کو کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اگر میں اس طرح کی صورت حال پاؤں تو اُحد پہاڑ کی طرف جا کر اپنی تلوار توڑ دوں اور اپنے گھر میں بیٹھ جاؤں ، میں نے عرض کی : اگر وہ ( قاتل ) شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندرونی حصے میں جا کے بیٹھ جانا ، اگر وہ وہاں بھی تمہارے پاس آئے ، تو تم گھٹنوں کے بل جھک جانا اور یہ کہہ دینا : تم میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ! تم اہل جہنم میں سے ہو گے اور ظلم کرنے والوں کی جزاء یہی ہے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو میں نے اپنی تلوار توڑ دی ہے ، اگر کوئی شخص میرے گھر میں میرے پاس آیا ، تو میں گھر کے اندرونی حصے میں چلا جاؤں گا ، اگر وہ گھر کے اندرونی حصے میں بھی میرے پاس آیا ، تو میں گھٹنوں کے بل جھک جاؤں گا اور وہ بات کہوں گا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنے کے لئے ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12327
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا فَاعْمِدْ بِسَيْفِكَ عَلَى أَعْظَمِ صَخْرَةٍ فِي الْحَرَّةِ فَاضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى يَنْكَسِرَ ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ دنیا کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ، تو تم اپنی تلوار لے کر پتھریلی زمین میں موجود سب سے بڑی چٹان کے پاس جاؤ اور وہ تلوار اُس چٹان پر مار کر اسے توڑ دو ، پھر تم اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ ، یہاں تک کہ گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) یا طبعی موت تم تک آ جائے ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو میں نے ویسا ہی کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12328
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفًا مِنْ نَجْرَانَ أَوْ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفٌ مِنْ نَجْرَانَ [ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ ] أَعْطَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَقَالَ : " جَاهِدْ بِهَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ النَّاسِ فَاضْرِبْ بِهِ الْحَجَرَ ، ثُمَّ ادْخُلْ بَيْتَكَ فَكُنْ حِلْسًا مُلْقًى حَتَّى تَقْتُلَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تلوار تحفے کے طور پر دی ، جو نجران سے آئی تھی ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : نجران سے آئی ہوئی ایک تلوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر دی گئی ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیدی اور ارشاد فرمایا : تم اس کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جب لوگوں کی گردنیں ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جائیں ، تو تم یہ تلوار پتھر پر مار کر اپنے گھر کے اندر چلے جانا اور اپنے گھر کی چٹائی بن جانا ، یہاں تک کہ گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ تمہیں قتل کر دے ) یا طبعی موت آ جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12329
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفًا ، فَقَالَ : " قَاتِلِ الْمُشْرِكِينَ مَا قُوتِلُوا ، فَإِذَا رَأَيْتَ سَيْفَيْنِ اخْتَلَفَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى يَنْثَلِمَ ، وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ " . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَحَذَا لِي عَلَى مِثَالِهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو تلوار دی اور ارشاد فرمایا : ” مشرکین کے ساتھ جنگ کرتے رہنا ، جب تک جنگ کی جائے ، اور جب تم دیکھو کہ تلواریں مسلمانوں کے درمیان ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئی ہیں ، تو تم اس تلوار کو مار کر اسے ناکارہ کر دینا اور اپنے گھر میں بیٹھ جانا ، یہاں تک کہ طبعی موت یا گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) تم تک آ جائے ۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند حدیث مجھے بیان کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12330
وَعَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو جَالِسًا حِينَ جَاءَهُ رَسُولُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : إِنَّكَ أَحَقُّ مَنْ أَعَانَنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ . فَقَالَ : سَمِعْتُ خَلِيلِي ابْنَ عَمِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَانَ هَكَذَا أَوْ مِثْلَ هَذَا أَنِ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ " ، فَقَدِ اتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ میں سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ان کے پاس سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا: آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ اس بارے میں ہماری مدد کریں ، تو انہوں نے فرمایا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کے چچا زاد ہیں ، میں نے انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اس طرح کی صورت حال ہو ، تو میں لکڑی کی تلوار رکھ لوں ۔ “ تو میں نے لکڑی کی تلوار رکھ لی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12331
وَعَنْ حُذَيْفَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ : " أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَحَدُكُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ " قُلْتُ : فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ يَدَكَ " قُلْتُ : فَإِنِ انْجَبَرَتْ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ الْأُخْرَى " . قُلْتُ : فَإِنِ انْجَبَرَتْ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ رِجْلَكَ " . قُلْتُ : فَإِنِ انْجَبَرَتْ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ الْأُخْرَى " . قُلْتُ : حَتَّى مَتَى ؟ قَالَ : " حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” تمہارے پاس فتنے یوں آئیں گے ، جیسے وہ تاریک رات کے ٹکڑے ہوں ، اُن میں کوئی شخص صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کو کافر ہو جائے گا ، یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کافر ہو چکا ہو گا ، تم میں سے کوئی ایک شخص دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض میں اپنے دین کو فروخت کر دے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر میں کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا ہاتھ توڑ دینا ۔ میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ ( یعنی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر باندھی جانے والی پٹی ) باندھ دی جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دوسرا توڑ دینا ، میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ باندھ دی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم اپنا پاؤں توڑ دینا ، میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ باندھ دی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم دوسرا پاؤں بھی توڑ دینا ، میں نے عرض کی : ایسا کب تک رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : جب تک گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) یا طبعی موت تم تک نہیں آ جاتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 12332
وَعَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ صَاحِبُ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ : مَا بِي بَأْسٌ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي ، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ فَلْأَقُولَنَّ : هَا ، بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّجُلِ الْمُبْهَمِ . ¤
محمد محی الدین
ربعی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، اس نے بتایا کہ اس پلنگ پر لیٹے ہوئے صاحب نے یہ بات بیان کی ہے : مجھے کوئی حرج نہیں ہے ، جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے کہ اگر تم لوگ آپس میں جنگ کرو گے ، تو میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں ، اگر کوئی شخص میرے گھر میں مجھ تک آ جائے ، تو میں ضرور یہ کہوں کہ : تم میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ایک مبہم شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ایک مبہم شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔
حدیث نمبر: 12333
وَعَنْ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ : إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَلِجُ ؟ قُلْتُ : عَلَيْكُمْ السَّلَامُ [ فَلِجْ ]. فَلَمَّا دَخَلَ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ [ وَذَلِكَ ]فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ؟ ! قَالَ : طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ ، فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ . قَالَ : فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُحَدِّثُهُ . قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمِ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ ، وَالرَّاكِبُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي . قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَتَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ " . قُلْتُ : وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ ؟ قَالَ : " حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ " . قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " اكْفُفْ يَدَكَ وَلِسَانَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي ؟ قَالَ : " فَادْخُلْ بَيْتَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي ؟ قَالَ : " فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ ، وَاصْنَعْ هَكَذَا - وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ - وَقُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
وابصہ اسدی بیان کرتے ہیں : میں کوفہ میں اپنے گھر میں موجود تھا ، اسی دوران میں نے دروازے پر کسی شخص کی آواز سنی ، السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام اندر آ جاؤ ! جب وہ صاحب اندر آئے ، تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! ملنے کے لئے آنے کا یہ کون سا وقت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ دن چڑھے کے وقت کی بات ہے ، انہوں نے فرمایا : دن طویل ہو چکا تھا ، مجھے ایک بات یاد آئی ، جو میں بیان کرنا چاہتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کیں ، انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسا فتنہ ہو گا کہ اُس میں سویا ہوا شخص ، لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں لیٹا ہوا شخص ، بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا ، اس میں بیٹھا ہوا شخص ، کھڑے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں کھڑا ہوا شخص ، چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں چلنے والا شخص ، سوار شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں سوار شخص ، دوڑنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ، اس کے دوران مرنے والے سب لوگ جہنم میں جائیں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ قتل و غارت گری کے دن ہوں گے ، میں نے عرض کی : قتل و غارت گری کے دن کب ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت جب کوئی شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے محفوظ نہیں ہو گا ، میں نے عرض کی : اگر میں وہ زمانہ پا لیتا ہوں تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ہاتھ اور اپنی زبان کو روک کے رکھنا اور اپنے گھر میں داخل ہو جانا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر میں رہنا ، میں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مسجد میں داخل ہو جانا اور پھر اس طرح کرنا ، آپ نے اپنی دائیں ہتھیلی کو بند کیا اور فرمایا : تم یہ کہنا : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہیں موت آ جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12334
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ ، إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَحْدَاثٌ وَفِتَنٌ وَاخْتِلَافٌ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ لَا الْقَاتِلَ فَافْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے خالد ! عنقریب میرے بعد نئی صورت حال ، فتنے اور اختلافات ہوں گے ، اگر تم سے ہو سکے ، تو تم اللہ کا مقتول بندہ بننا ، قاتل نہ بننا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12335
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ مِعَ الْخَوَارِجِ ثُمَّ فَارَقَهُمْ قَالَ : دَخَلُوا قَرْيَةً ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ ، فَقَالُوا : لِمَ تُرَعُ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ رُعْتُمُونِي . قَالُوا : أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُحَدِّثُنَاهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ فِتْنَةً الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي " . قَالَ : " فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَلِكَ فَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ " . قَالُوا : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَدَّمُوهُ عَلَى ضَفَّةِ النَّهْرِ ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَسَالَ دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ امْدَقَرَّ ، وَبَقَرُوا أُمَّ وَلَدِهِ عَمَّا فِي بَطْنِهَا . وَفِي رِوَايَةٍ : مَا ابْذَقَرَّ - يَعْنِي لَمْ يَتَفَرَّقْ - قَالَ : " وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ " مِنْ غَيْرِ شَكٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَوَّلُهُ : لَمَّا تَفَرَّقَتِ النَّاسُ صَحِبْتُ قَوْمًا لَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُمْ ، فَسِرْنَا عَلَى شَطِّ نَهْرٍ ، فَرُفِعَ لَنَا مَسْجِدٌ فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى نَوَاصِي الْخَيْلِ خَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ ، فَقَالَ لَهُ أَمِيرُنَا : لِمَ تُرَعُ ؟ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَلَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ حَتَّى وَجَدْتُ خَلْوَةً فَانْفَلَتُّ . ¤ وَلَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جو پہلے خوارج کے ساتھ تھے اور پھر ان سے الگ ہو گئے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ ایک بستی میں داخل ہوئے ، تو سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ چادر کو گھسیٹتے ہوئے پریشانی کے عالم میں باہر آئے ، لوگوں نے کہا: آپ پریشان نہ ہوں ، انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے صحابی سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے والد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو آپ ہمیں بیان کریں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا ، اس میں کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” اگر تم وہ صورت حال پاؤ ، تو تم مقتول بندے بننا “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ کے قاتل بندے نہ بننا ۔ “ لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ حدیث اپنے والد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے ان صاحب کو آگے کیا ، نہر کے کنارے لائے اور ان کی گردن اڑا دی ، ان کا خون بہتا ہوا یوں جا رہا تھا جیسے وہ جوتے کا تسمہ ہوتا ہے ، پھر ان لوگوں نے ان صاحب کی ام ولد کو بھی ذبح کر دیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی مار دیا ، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لفظ مَا ابْذَقَر اس کا مطلب یہ ہے وہ متفرق نہیں ہوئے ، اور اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اور یہ الفاظ کسی شک کے بغیر ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : ” جب لوگ اختلافات کا شکار ہوئے ، تو میں ایک ایسی قوم کے ساتھ ہو گیا کہ کوئی قوم میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب نہیں تھی ، ہم نہر کے کنارے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک مسجد ہمارے سامنے آئی ، اس میں ایک شخص موجود تھا ، جب اس نے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھیں ، تو وہ پریشانی کے عالم میں اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا باہر آیا ، ہمارے امیر نے اس سے کہا: تم پریشان نہ ہو ! “ ۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” میں کسی ایسی قوم کے ساتھ نہیں رہا کہ جو میرے نزدیک ان لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا ، تو میں وہاں سے کھسک گیا ۔ “ ( مصنف فرماتے ہیں : ) میں اُس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ( اور جو اس روایت کا راوی ہے ) اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : ” جب لوگ اختلافات کا شکار ہوئے ، تو میں ایک ایسی قوم کے ساتھ ہو گیا کہ کوئی قوم میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب نہیں تھی ، ہم نہر کے کنارے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک مسجد ہمارے سامنے آئی ، اس میں ایک شخص موجود تھا ، جب اس نے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھیں ، تو وہ پریشانی کے عالم میں اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا باہر آیا ، ہمارے امیر نے اس سے کہا: تم پریشان نہ ہو ! “ ۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” میں کسی ایسی قوم کے ساتھ نہیں رہا کہ جو میرے نزدیک ان لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا ، تو میں وہاں سے کھسک گیا ۔ “ ( مصنف فرماتے ہیں : ) میں اُس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ( اور جو اس روایت کا راوی ہے ) اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12336
وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : كَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَأَخْمِلُوا ذِكْرَكُمْ " . فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَى أَحَدِنَا بَيْتَهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُمْسِكْ بِيَدِهِ ، وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي قُبَّةِ الْإِسْلَامِ فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ وَيَسْفِكُ دَمَهُ وَيَعْصِي رَبَّهُ وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وَتَجِبُ لَهُ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کو کافر ہو چکا ہو گا ، مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے گھروں میں داخل ہو جانا اور اپنے آپ کو چھپا لینا ، ایک شخص نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں داخل ہو جاتا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ( گھر والا ) شخص اپنا ہاتھ روک کے رکھے اور اللہ کا مقتول بندہ بن جائے ، وہ اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے ، کیونکہ آدمی اسلام کے قبہ میں ہوتا ہے ، پھر وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے ، اس کا خون بہاتا ہے ، اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے ، اپنے خالق کا کفر کرتا ہے ، تو اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب اور ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب اور ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12337
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللِّيثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . قَالُوا : فَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ فَأَمْسَكَ بِهِ فَقَالَ : " تَفْعَلُونَ هَكَذَا " . وَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . فَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . فَقَالُوا : فَكَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَكَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الْأَوَّلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب فتنے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک چٹائی کی طرف بڑھایا ، اسے پکڑا اور فرمایا : تم لوگ اس طرح کرنا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ عنقریب فتنے ہوں گے ، بہت سے لوگوں نے یہ بات نہیں سنی ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ( ان لوگوں سے ) کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو ارشاد فرما رہے ہیں ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب فتنے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمارے لے کیا ہو گا ؟ اور ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12338
وَعَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيِّ قَالَ : أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحَدِّثُنَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ مَالِ النَّاسِ غَنَمٌ بَيْنَ شَجَرٍ تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمِيَاهَ ، يَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ رِسْلِهَا وَيَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَيَلْبَسُونَ مِنْ أَشْعَارِهَا " . أَوْ قَالَ : " مِنْ أَصْوَافِهَا ، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِمِ الْعَرَبِ ، يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ " يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : لِمُخَوَّلٍ حَدِيثٌ طَوِيلٌ أَخَّرْتُهُ سَهْوًا ، [ يَكْتُبُ هَاهُنَا ] مِنْ مَقْلُوبِهَا فِي بَابٍ مِنْهُ فِيمَا يَفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مخول بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں لوگوں کے مال میں سب سے بہتر وہ بکریاں ہوں گی ، جو درختوں کے درمیان ہوں گی ، وہ درختوں کے پتے کھا لیں گی اور پانی تک پہنچ جائیں گی ، ان کے مالکان ان کا گوشت کھا لیں گے ، ان کا دودھ پی لیں گے ، ان کے بالوں کا لباس بنا لیں گے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کی اون کا لباس بنا لیں گے اور اس وقت فتنے عربوں کے رہائشی مقامات میں گھومتے پھر رہے ہوں گے ، اور لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) سیدنا مخول رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث مذکور ہے ، جسے میں نے بھول کر بعد میں ذکر کیا ہے وہ یہاں نوٹ ہونی چاہیے تھی ، وہ اس باب میں آئے گی کہ فتنوں کے زمانے میں کیا کرنا چاہیے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) سیدنا مخول رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث مذکور ہے ، جسے میں نے بھول کر بعد میں ذکر کیا ہے وہ یہاں نوٹ ہونی چاہیے تھی ، وہ اس باب میں آئے گی کہ فتنوں کے زمانے میں کیا کرنا چاہیے ؟
حدیث نمبر: 12339
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهَا سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَأَيُّ الرِّجَالِ أَرْشَدُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَرَمَيْنِ فِي قِلَّةٍ ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ لِمَوَاقِيتِهَا وَيَحُجُّ وَيَعْتَمِرُ ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى تَأْتِيَهُ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد ایسے فتنے آئیں گے ، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( اس زمانے میں ) کون سا شخص زیادہ سمجھ دار ہو گا ( یا ہدایت یافتہ ہو گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو ان دو حرموں ( یعنی حرمین شریفین ) کے درمیان کسی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہ کر نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرتا ہو ، وہ حج کرے اور عمرہ کرے اور وہ مسلسل ایسے ہی رہے ، یہاں تک کہ کوئی گنہگار ہاتھ ( یعنی قتل کرنے والے کا ہاتھ ) یا طبعی موت اس تک آ جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12340
وَعَنْ أَبِي الْغَادِيَةِ الْمُزَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ ، خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا مُسْلِمُو أَهْلِ الْبَوَادِي الَّذِينَ لَا يَتَنَدَّوْنَ مِنْ دِمَاءِ النَّاسِ وَلَا أَمْوَالِهِمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ حَجَرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوغادیہ مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب بڑے اور مضبوط فتنے ہوں گے ، ان کے دوران لوگوں میں سب سے بہتر ، ویرانوں میں رہنے والے مسلمان ہوں گے ، جو لوگوں کا خون نہیں بہائیں گے اور ان کے اموال کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیان بن حجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیان بن حجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12341
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ أَسْلَمُ النَّاسِ فِيهَا - أَوْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا - الْجُنْدَ الْغَرْبِيُّ " ، قَالَ ابْنُ الْحَمِقِ : فَلِذَلِكَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِصْرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُدْرَى مَنْ هُوَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب فتنہ ہو گا ، اس میں لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی والا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں لوگوں میں سب سے بہتر مغربی لشکر ہو گا ۔ “ سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے میں تم لوگوں کے پاس مصر آیا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیرہ بن عبداللہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیرہ بن عبداللہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟