مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهَا سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَأَيُّ الرِّجَالِ أَرْشَدُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَرَمَيْنِ فِي قِلَّةٍ ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ لِمَوَاقِيتِهَا وَيَحُجُّ وَيَعْتَمِرُ ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى تَأْتِيَهُ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد ایسے فتنے آئیں گے ، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( اس زمانے میں ) کون سا شخص زیادہ سمجھ دار ہو گا ( یا ہدایت یافتہ ہو گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو ان دو حرموں ( یعنی حرمین شریفین ) کے درمیان کسی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہ کر نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرتا ہو ، وہ حج کرے اور عمرہ کرے اور وہ مسلسل ایسے ہی رہے ، یہاں تک کہ کوئی گنہگار ہاتھ ( یعنی قتل کرنے والے کا ہاتھ ) یا طبعی موت اس تک آ جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔