مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 12341
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ أَسْلَمُ النَّاسِ فِيهَا - أَوْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا - الْجُنْدَ الْغَرْبِيُّ " ، قَالَ ابْنُ الْحَمِقِ : فَلِذَلِكَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِصْرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُدْرَى مَنْ هُوَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب فتنہ ہو گا ، اس میں لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی والا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں لوگوں میں سب سے بہتر مغربی لشکر ہو گا ۔ “ سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے میں تم لوگوں کے پاس مصر آیا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیرہ بن عبداللہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟