مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
وَعَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيِّ قَالَ : أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحَدِّثُنَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ مَالِ النَّاسِ غَنَمٌ بَيْنَ شَجَرٍ تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمِيَاهَ ، يَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ رِسْلِهَا وَيَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَيَلْبَسُونَ مِنْ أَشْعَارِهَا " . أَوْ قَالَ : " مِنْ أَصْوَافِهَا ، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِمِ الْعَرَبِ ، يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ " يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : لِمُخَوَّلٍ حَدِيثٌ طَوِيلٌ أَخَّرْتُهُ سَهْوًا ، [ يَكْتُبُ هَاهُنَا ] مِنْ مَقْلُوبِهَا فِي بَابٍ مِنْهُ فِيمَا يَفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . ¤سیدنا مخول بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں لوگوں کے مال میں سب سے بہتر وہ بکریاں ہوں گی ، جو درختوں کے درمیان ہوں گی ، وہ درختوں کے پتے کھا لیں گی اور پانی تک پہنچ جائیں گی ، ان کے مالکان ان کا گوشت کھا لیں گے ، ان کا دودھ پی لیں گے ، ان کے بالوں کا لباس بنا لیں گے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کی اون کا لباس بنا لیں گے اور اس وقت فتنے عربوں کے رہائشی مقامات میں گھومتے پھر رہے ہوں گے ، اور لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) سیدنا مخول رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث مذکور ہے ، جسے میں نے بھول کر بعد میں ذکر کیا ہے وہ یہاں نوٹ ہونی چاہیے تھی ، وہ اس باب میں آئے گی کہ فتنوں کے زمانے میں کیا کرنا چاہیے ؟