مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللِّيثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . قَالُوا : فَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ فَأَمْسَكَ بِهِ فَقَالَ : " تَفْعَلُونَ هَكَذَا " . وَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . فَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . فَقَالُوا : فَكَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَكَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الْأَوَّلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا واقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب فتنے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک چٹائی کی طرف بڑھایا ، اسے پکڑا اور فرمایا : تم لوگ اس طرح کرنا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ عنقریب فتنے ہوں گے ، بہت سے لوگوں نے یہ بات نہیں سنی ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ( ان لوگوں سے ) کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو ارشاد فرما رہے ہیں ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب فتنے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمارے لے کیا ہو گا ؟ اور ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔