مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 12334
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ ، إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَحْدَاثٌ وَفِتَنٌ وَاخْتِلَافٌ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ لَا الْقَاتِلَ فَافْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے خالد ! عنقریب میرے بعد نئی صورت حال ، فتنے اور اختلافات ہوں گے ، اگر تم سے ہو سکے ، تو تم اللہ کا مقتول بندہ بننا ، قاتل نہ بننا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔