مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ مِعَ الْخَوَارِجِ ثُمَّ فَارَقَهُمْ قَالَ : دَخَلُوا قَرْيَةً ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ ، فَقَالُوا : لِمَ تُرَعُ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ رُعْتُمُونِي . قَالُوا : أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُحَدِّثُنَاهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ فِتْنَةً الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي " . قَالَ : " فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَلِكَ فَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ " . قَالُوا : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَدَّمُوهُ عَلَى ضَفَّةِ النَّهْرِ ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَسَالَ دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ امْدَقَرَّ ، وَبَقَرُوا أُمَّ وَلَدِهِ عَمَّا فِي بَطْنِهَا . وَفِي رِوَايَةٍ : مَا ابْذَقَرَّ - يَعْنِي لَمْ يَتَفَرَّقْ - قَالَ : " وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ " مِنْ غَيْرِ شَكٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَوَّلُهُ : لَمَّا تَفَرَّقَتِ النَّاسُ صَحِبْتُ قَوْمًا لَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُمْ ، فَسِرْنَا عَلَى شَطِّ نَهْرٍ ، فَرُفِعَ لَنَا مَسْجِدٌ فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى نَوَاصِي الْخَيْلِ خَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ ، فَقَالَ لَهُ أَمِيرُنَا : لِمَ تُرَعُ ؟ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَلَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ حَتَّى وَجَدْتُ خَلْوَةً فَانْفَلَتُّ . ¤ وَلَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جو پہلے خوارج کے ساتھ تھے اور پھر ان سے الگ ہو گئے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ ایک بستی میں داخل ہوئے ، تو سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ چادر کو گھسیٹتے ہوئے پریشانی کے عالم میں باہر آئے ، لوگوں نے کہا: آپ پریشان نہ ہوں ، انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے صحابی سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے والد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو آپ ہمیں بیان کریں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا ، اس میں کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” اگر تم وہ صورت حال پاؤ ، تو تم مقتول بندے بننا “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ کے قاتل بندے نہ بننا ۔ “ لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ حدیث اپنے والد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے ان صاحب کو آگے کیا ، نہر کے کنارے لائے اور ان کی گردن اڑا دی ، ان کا خون بہتا ہوا یوں جا رہا تھا جیسے وہ جوتے کا تسمہ ہوتا ہے ، پھر ان لوگوں نے ان صاحب کی ام ولد کو بھی ذبح کر دیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی مار دیا ، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لفظ مَا ابْذَقَر اس کا مطلب یہ ہے وہ متفرق نہیں ہوئے ، اور اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اور یہ الفاظ کسی شک کے بغیر ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : ” جب لوگ اختلافات کا شکار ہوئے ، تو میں ایک ایسی قوم کے ساتھ ہو گیا کہ کوئی قوم میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب نہیں تھی ، ہم نہر کے کنارے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک مسجد ہمارے سامنے آئی ، اس میں ایک شخص موجود تھا ، جب اس نے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھیں ، تو وہ پریشانی کے عالم میں اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا باہر آیا ، ہمارے امیر نے اس سے کہا: تم پریشان نہ ہو ! “ ۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” میں کسی ایسی قوم کے ساتھ نہیں رہا کہ جو میرے نزدیک ان لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا ، تو میں وہاں سے کھسک گیا ۔ “ ( مصنف فرماتے ہیں : ) میں اُس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ( اور جو اس روایت کا راوی ہے ) اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔