حدیث نمبر: 12333
وَعَنْ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ : إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَلِجُ ؟ قُلْتُ : عَلَيْكُمْ السَّلَامُ [ فَلِجْ ]. فَلَمَّا دَخَلَ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ [ وَذَلِكَ ]فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ؟ ! قَالَ : طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ ، فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ . قَالَ : فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُحَدِّثُهُ . قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمِ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ ، وَالرَّاكِبُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي . قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَتَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ " . قُلْتُ : وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ ؟ قَالَ : " حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ " . قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " اكْفُفْ يَدَكَ وَلِسَانَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي ؟ قَالَ : " فَادْخُلْ بَيْتَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي ؟ قَالَ : " فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ ، وَاصْنَعْ هَكَذَا - وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ - وَقُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

وابصہ اسدی بیان کرتے ہیں : میں کوفہ میں اپنے گھر میں موجود تھا ، اسی دوران میں نے دروازے پر کسی شخص کی آواز سنی ، السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام اندر آ جاؤ ! جب وہ صاحب اندر آئے ، تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! ملنے کے لئے آنے کا یہ کون سا وقت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ دن چڑھے کے وقت کی بات ہے ، انہوں نے فرمایا : دن طویل ہو چکا تھا ، مجھے ایک بات یاد آئی ، جو میں بیان کرنا چاہتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کیں ، انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسا فتنہ ہو گا کہ اُس میں سویا ہوا شخص ، لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں لیٹا ہوا شخص ، بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا ، اس میں بیٹھا ہوا شخص ، کھڑے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں کھڑا ہوا شخص ، چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں چلنے والا شخص ، سوار شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں سوار شخص ، دوڑنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ، اس کے دوران مرنے والے سب لوگ جہنم میں جائیں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ قتل و غارت گری کے دن ہوں گے ، میں نے عرض کی : قتل و غارت گری کے دن کب ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت جب کوئی شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے محفوظ نہیں ہو گا ، میں نے عرض کی : اگر میں وہ زمانہ پا لیتا ہوں تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ہاتھ اور اپنی زبان کو روک کے رکھنا اور اپنے گھر میں داخل ہو جانا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر میں رہنا ، میں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مسجد میں داخل ہو جانا اور پھر اس طرح کرنا ، آپ نے اپنی دائیں ہتھیلی کو بند کیا اور فرمایا : تم یہ کہنا : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہیں موت آ جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12333
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9774) اخرجه احمد فى المسند (4287 و 4286)»