مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 12332
وَعَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ صَاحِبُ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ : مَا بِي بَأْسٌ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي ، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ فَلْأَقُولَنَّ : هَا ، بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّجُلِ الْمُبْهَمِ . ¤محمد محی الدین
ربعی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، اس نے بتایا کہ اس پلنگ پر لیٹے ہوئے صاحب نے یہ بات بیان کی ہے : مجھے کوئی حرج نہیں ہے ، جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے کہ اگر تم لوگ آپس میں جنگ کرو گے ، تو میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں ، اگر کوئی شخص میرے گھر میں مجھ تک آ جائے ، تو میں ضرور یہ کہوں کہ : تم میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ایک مبہم شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔