حدیث نمبر: 12331
وَعَنْ حُذَيْفَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ : " أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَحَدُكُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ " قُلْتُ : فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ يَدَكَ " قُلْتُ : فَإِنِ انْجَبَرَتْ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ الْأُخْرَى " . قُلْتُ : فَإِنِ انْجَبَرَتْ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ رِجْلَكَ " . قُلْتُ : فَإِنِ انْجَبَرَتْ ؟ قَالَ : " تَكْسِرُ الْأُخْرَى " . قُلْتُ : حَتَّى مَتَى ؟ قَالَ : " حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” تمہارے پاس فتنے یوں آئیں گے ، جیسے وہ تاریک رات کے ٹکڑے ہوں ، اُن میں کوئی شخص صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کو کافر ہو جائے گا ، یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کافر ہو چکا ہو گا ، تم میں سے کوئی ایک شخص دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض میں اپنے دین کو فروخت کر دے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر میں کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا ہاتھ توڑ دینا ۔ میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ ( یعنی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر باندھی جانے والی پٹی ) باندھ دی جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دوسرا توڑ دینا ، میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ باندھ دی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم اپنا پاؤں توڑ دینا ، میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ باندھ دی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم دوسرا پاؤں بھی توڑ دینا ، میں نے عرض کی : ایسا کب تک رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : جب تک گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) یا طبعی موت تم تک نہیں آ جاتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن