مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
وَعَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو جَالِسًا حِينَ جَاءَهُ رَسُولُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : إِنَّكَ أَحَقُّ مَنْ أَعَانَنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ . فَقَالَ : سَمِعْتُ خَلِيلِي ابْنَ عَمِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَانَ هَكَذَا أَوْ مِثْلَ هَذَا أَنِ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ " ، فَقَدِ اتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ میں سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ان کے پاس سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا: آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ اس بارے میں ہماری مدد کریں ، تو انہوں نے فرمایا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کے چچا زاد ہیں ، میں نے انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اس طرح کی صورت حال ہو ، تو میں لکڑی کی تلوار رکھ لوں ۔ “ تو میں نے لکڑی کی تلوار رکھ لی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔