مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفًا ، فَقَالَ : " قَاتِلِ الْمُشْرِكِينَ مَا قُوتِلُوا ، فَإِذَا رَأَيْتَ سَيْفَيْنِ اخْتَلَفَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى يَنْثَلِمَ ، وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ " . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَحَذَا لِي عَلَى مِثَالِهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو تلوار دی اور ارشاد فرمایا : ” مشرکین کے ساتھ جنگ کرتے رہنا ، جب تک جنگ کی جائے ، اور جب تم دیکھو کہ تلواریں مسلمانوں کے درمیان ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئی ہیں ، تو تم اس تلوار کو مار کر اسے ناکارہ کر دینا اور اپنے گھر میں بیٹھ جانا ، یہاں تک کہ طبعی موت یا گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) تم تک آ جائے ۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند حدیث مجھے بیان کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔