حدیث نمبر: 12328
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفًا مِنْ نَجْرَانَ أَوْ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفٌ مِنْ نَجْرَانَ [ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ ] أَعْطَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَقَالَ : " جَاهِدْ بِهَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ النَّاسِ فَاضْرِبْ بِهِ الْحَجَرَ ، ثُمَّ ادْخُلْ بَيْتَكَ فَكُنْ حِلْسًا مُلْقًى حَتَّى تَقْتُلَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعید بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تلوار تحفے کے طور پر دی ، جو نجران سے آئی تھی ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : نجران سے آئی ہوئی ایک تلوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر دی گئی ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیدی اور ارشاد فرمایا : تم اس کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جب لوگوں کی گردنیں ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جائیں ، تو تم یہ تلوار پتھر پر مار کر اپنے گھر کے اندر چلے جانا اور اپنے گھر کی چٹائی بن جانا ، یہاں تک کہ گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ تمہیں قتل کر دے ) یا طبعی موت آ جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12328
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5424)»