مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 12327
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا فَاعْمِدْ بِسَيْفِكَ عَلَى أَعْظَمِ صَخْرَةٍ فِي الْحَرَّةِ فَاضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى يَنْكَسِرَ ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ " . فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ دنیا کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ، تو تم اپنی تلوار لے کر پتھریلی زمین میں موجود سب سے بڑی چٹان کے پاس جاؤ اور وہ تلوار اُس چٹان پر مار کر اسے توڑ دو ، پھر تم اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ ، یہاں تک کہ گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) یا طبعی موت تم تک آ جائے ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو میں نے ویسا ہی کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔