حدیث نمبر: 12326
وَعَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ : بَعَثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَمَعِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمْتُ فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرُونَ بِهِ النَّاسَ ؟ فَقَالَ : أَوْصَانِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ أَنْ أَعْمِدَ إِلَى أُحُدٍ وَأَكْسِرَ سَيْفِي وَأَقْعُدَ فِي بَيْتِي ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي قَالَ : " اقْعُدْ فِي مَخْدَعِكَ ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ فَاجْثُ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَتَقُولُ : بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ ، فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ " . فَقَدْ كَسَرْتُ سَيْفِي ، فَإِذَا دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي دَخَلْتُ مَخْدَعِي ، فَإِذَا دَخَلَ عَلَيَّ مَخْدَعِي جَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتَيَّ فَقُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقُولَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں : یزید بن معاویہ نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، میں آیا ، میں نے دریافت کیا : آپ اس کے بارے میں لوگوں کو کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اگر میں اس طرح کی صورت حال پاؤں تو اُحد پہاڑ کی طرف جا کر اپنی تلوار توڑ دوں اور اپنے گھر میں بیٹھ جاؤں ، میں نے عرض کی : اگر وہ ( قاتل ) شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندرونی حصے میں جا کے بیٹھ جانا ، اگر وہ وہاں بھی تمہارے پاس آئے ، تو تم گھٹنوں کے بل جھک جانا اور یہ کہہ دینا : تم میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ! تم اہل جہنم میں سے ہو گے اور ظلم کرنے والوں کی جزاء یہی ہے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو میں نے اپنی تلوار توڑ دی ہے ، اگر کوئی شخص میرے گھر میں میرے پاس آیا ، تو میں گھر کے اندرونی حصے میں چلا جاؤں گا ، اگر وہ گھر کے اندرونی حصے میں بھی میرے پاس آیا ، تو میں گھٹنوں کے بل جھک جاؤں گا اور وہ بات کہوں گا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنے کے لئے ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12326
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3357)»