مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا يُفْعَلُ فِي الْفِتَنِ . باب: فتنے کے زمانے میں کیا ، کیا جائے ؟
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، فَمَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ فَلْيَمْشِ بِسَيْفِهِ إِلَى صَفَاةٍ فَلْيَضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعَ لَهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ الْمُحَارِبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد ایسا فتنہ آئے گا ، جس میں سویا ہوا شخص ، بیدار شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں بیٹھا ہوا شخص ، چلنے والے سے بہتر ہو گا ، تم میں سے جس شخص کو وہ صورت حال درپیش ہو ، وہ اپنی تلوار لے کر کسی چٹان کے پاس جائے اور وہ تلوار اس چٹان پر مار کر اس تلوار کو توڑ دے اور پھر وہ لیٹ جائے ، یہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہو جائے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر محاربی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔