مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ حَضَرَ قَتْلَ مَظْلُومٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو مظلوم کے قتل کے وقت موجود ہوتا ہے
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قُتِلَ مَظْلُومًا فَتُصِيبُهُ السَّخْطَةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَتَنْزِلُ السَّخْطَةُ عَلَيْهِمْ فَتُصِيبُهُ مَعَهُمْ " ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی ایک شخص ، کسی مقتول کے قتل کے وقت ہرگز موجود نہ ہو ، کیونکہ ہو سکتا ہے اُسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ، اور پھر اس ( موجود ہونے والے شخص ) کو بھی ( اللہ تعالیٰ کی ) ناراضگی لاحق ہو جائے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” تو اُن لوگوں پر ناراضگی نازل ہو اور ان کے ہمراہ اس شخص کو بھی لاحق ہو جائے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔